نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ
پاکستان بیت المال مستحق طلبہ کی تعلیمی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈائریکٹوریٹ آف فنانشل اسسٹنس اینڈ یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ کے زیرِ اہتمام پاکستان بیت المال کے اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں ایک خصوصی و تعارفی نشست کا انعقاد بدھ، 7 جنوری 2026ء کو کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے خاتمہء غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ تھے، جن کا استقبال وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان، ڈینز، ڈائریکٹرز، اساتذہ اور طلبہ کے نمائندگان نے پُرجوش انداز میں کیا۔ اس سیشن کا مقصد حکومت اور تعلیمی اداروں کے مابین اشتراک کو مضبوط بنانا اور نوجوانوں کے لیے وظائف اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
افتتاحی کلمات میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے مالی مشکلات کے شکار طلبہ کی مالی معاونت کے لیے پاکستان بیت المال کے تعاون اور اہم کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ اکثر طلبہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث انھیں مالی حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان بیت المال کی جانب سے وظائف کا اجرا اُن طلبہ کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو اپنی محنت اور لگن سے ملک و قوم کا سرمایہ بن سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور سماجی ترقیاتی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا، اور بتایا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی جدت، پائیداری، اور دیہی خوشحالی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم تک مساوی رسائی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزارتِ خاتمہء غربت و سماجی تحفظ، پاکستان بیت المال اسکالرشپ جیسے پروگراموں کے ذریعے، باصلاحیت مگر مالی طور پر کمزور نوجوانوں کے لیے رکاوٹیں دور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، کوئی طالب علم مالی مجبوری کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ حکومت وظائف کے مواقع بڑھانے اور معاونت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر بارانی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ایک خصوصی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے اسکالرشپ کی کوئی حد مقرر نہیں ہوگی۔ پاکستان بیت المال کو ہدایات جاری کی جائیں گی کہ بارانی یونیورسٹی سے موصول ہونے والی ہر درخواست پر غور کیا جائے تاکہ کوئی بھی مستحق طالب علم پیچھے نہ رہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبہ کے سالانہ وظیفے کی رقم ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جو حکومت کی تعلیم تک بہتر رسائی اور معیار کو فروغ دینے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
اختتامی کلمات میں مہمانِ خصوصی نے پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ اور خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ دیں اور سوشل میڈیا کے گمراہ کن مواد سے بچیں۔ انھوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال علم کے لیے کیجیے، شور کے لیے نہیں۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر اور وائس چانسلر نے مستحق طلبہ میں اسکالرشپ چیک تقسیم کیے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی وظائف زکوٰۃ سے نہیں بلکہ حکومت کے مخصوص بجٹ سے فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ سب کو یکساں مواقع میسر ہوں۔
Read in English: PMAS AAUR Students Receive PBM Scholarship Boost
