طلبہ کی تحقیقی سرگرمیاں پائیدار زراعت کے لیے جدت طرازی کو فروغ دے سکتی ہیں: وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں یونیورسٹی کے سینٹر فار پریسیژن ایگریکلچر کے زیرِ اہتمام کلائمیٹ اسمارٹ آبپاشی اور پریسیژن ایگریکلچر کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، جس میں محققین، اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار میں زرعی شعبے میں پانی کے پائیدار نظام کے لیے جدید اور اختراعی طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو درپیش زرعی مسائل خصوصاً پانی کی کمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی تحقیق نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، جس کے ذریعے براہِ راست کاشتکار کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی تحقیقی سرگرمیاں کسانوں کے لیے جدید اور قابلِ عمل حل پیش کر سکتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف طلبہ کی علمی تربیت کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ زرعی پیداوار میں اضافے اور ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سیمینار کے کلیدی مقرر ڈاکٹر سعد جاوید چیمہ تھے جو کینیڈا کی یونیورسٹی آف پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ سے وابستہ زرعی انجینئر ہیں۔ انہوں نے جدید زراعت میں ڈیجیٹل آبپاشی مانیٹرنگ سسٹمز کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ایسی ٹیکنالوجیز جو بخاراتی اخراج (ایواپو ٹرانسپائریشن) اور مٹی کی نمی کو حقیقی وقت میں مانیٹر کر سکتی ہیں، آبپاشی کے نظام الاوقات کو مؤثر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں اور کسانوں کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ فصل کی ضرورت کے مطابق درست وقت پر پانی فراہم کر سکیں۔
ڈاکٹر سعد جاوید چیمہ نے مزید کہا کہ ڈیٹا پر مبنی آبپاشی کے یہ نظام قیمتی آبی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ فصلوں کی پیداوار اور موسمیاتی تغیرات کے مقابلے میں ان کی برداشت کو بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جدید سینسنگ ٹیکنالوجیز کو فیصلہ ساز معاون نظام کے ساتھ مربوط کرنے سے کسانوں کو آبپاشی کے بارے میں مؤثر اور بروقت فیصلے کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
دیگر مقررین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ حالات میں پریسیژن ایگریکلچر کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ یہ ڈیجیٹل آلات، سینسرز، سیٹلائٹ ڈیٹا اور تجزیاتی طریقوں کو یکجا کر کے کھیتوں کے انتظام کو بہتر بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز کسانوں کو زرعی اخراجات کم کرنے، وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار زرعی پیداوار حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کا سینٹر فار پریسیژن ایگریکلچر ملک میں پریسیژن ایگریکلچر ٹیکنالوجیز کی ترقی اور نفاذ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ مرکز اپنی تحقیقی سرگرمیوں، تربیتی پروگراموں اور آگاہی مہمات کے ذریعے پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دے رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں مضبوط زرعی نظام کی تشکیل میں معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔
