سی پی ڈی آئی کی ایک وفد کے نمائندوں نے صوبہ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان سے ایک ایک ملاقات میں آزادیِ اطلاعات کمیشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات کی قیادت مونوس کائنات زہرہ نے کی اور وفد نے کمیشن کو مناسب وسائل مہیا کرنے اور کمشنر برائے اطلاعات کی خالی نشست کو پر کرنے کی فوری درخواست کی۔وفد نے کہا کہ موثر کارکردگی کے لیے آزادیِ اطلاعات میں شفافیت اور عملی وسائل ناگزیر ہیں تاکہ عوامی معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہیں خدشہ تھا کہ موجودہ خالی نشست اور محدود انتظامی صلاحیت کمیشن کی کارکردگی متاثر کر رہی ہے۔سی پی ڈی آئی نے گورنر سے یہ بھی درخواست کی کہ صوبہ میں صحافی تحفظ کا قانون نافذ کیا جائے جو سندھ اور وفاقی سطح پر موجود ضوابط کی مانند مؤثر ہو۔ تنظیم نے بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے قوانین اور عملی نفاذ سے صحافتی آزادی کو بہتر حفاظت ملے گی۔وفد نے خاص طور پر پی ای سی اے کی دو ہزار پچیس میں ہونے والی ترامیم کے بعد صحافیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی اور متنبہ کیا کہ اس پس منظر میں فوری اور کارگر قانون سازی اور نفاذ کی اشد ضرورت ہے تاکہ صحافی بلا خوف اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔گورنر نے ان خدشات کو تسلیم کیا، آئندہ اقدامات کی یقین دہانی کرائی اور سی پی ڈی آئی کی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صوبائی سطح پر قانون سازی اور انتظامی بہتری کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی تاکہ آزادیِ اطلاعات اور صحافی تحفظ دونوں کے معاملات میں پیش رفت ممکن ہو۔سی پی ڈی آئی نے واضح کیا کہ وہ اس موضوع پر مسلسل کام جاری رکھے گی اور گورنر کے بیان کردہ اقدامات پر عمل درآمد کے تقاضوں کی پیروی کرے گی تاکہ آزادیِ اطلاعات کے اصول مضبوط ہوں اور صحافیوں کی حفاظت کا قانونی فریم ورک مؤثر طریقے سے نافذ ہو سکے۔
