روحانی مراکز امن اور رواداری کا پیغام دیتے ہیں

newsdesk
3 Min Read
اسلام آباد میں سرکاری اور مذہبی رہنماؤں کی ملاقات میں معاشرتی ہم آہنگی، علاقائی ترقی اور عوامی فلاح کے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔

اسلام آباد (سٹی رپورٹر) وفاقی وزیر حنیف عباسی، مشیر اعلیٰ پنجاب علی ڈار اور ڈاکٹر ریاض جنجوعہ نے خادمِ اعلیٰ حضرت بری امام سرکار بابا کلو سرکار راجہ سرفراز اکرم سے بری امام ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملکی سیاسی و سماجی صورتحال کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔شرکاء نے گفتگو میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون بڑھانے اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مؤثر بنانے کے طریقوں پر زور دیا۔ ملاقات میں تعلیم، صحت اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں میں شمولیت کے حوالے سے بھی اہم نکات پر بات چیت ہوئی تاکہ منصوبے عملی سطح پر اثرانداز ہوں۔راجہ سرفراز اکرم نے اس موقع پر کہا کہ روحانی مراکز معاشرے میں امن، محبت اور رواداری کا پیغام دیتے ہیں اور ہمیں مل جل کر سماجی استحکام اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں کی خدمات کو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے اہم قرار دیا اور مثبت تعاون کی اپیل کی۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے بتایا کہ حکومت عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ان کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے منصوبے عوام تک براہِ راست بہتری پہنچانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے۔مشیر اعلیٰ پنجاب علی ڈار نے کہا کہ علاقائی ترقی اور شہری سہولیات کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات اور سماجی رہنماؤں کی رہنمائی دونوں ضروری ہیں، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عملی اقدامات مل کر کریں تاکہ شہری معیارِ زندگی میں بہتری آجائے۔ڈاکٹر ریاض جنجوعہ نے سماجی خدمت اور سیاسی قیادت کو یکجا کر کے نوجوان نسل کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مشترکہ کوششیں مثبت نتائج دیتی ہیں۔ ملاقات میں شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ رابطے اور تعاون جاری رکھے جائیں گے تاکہ اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں سماجی ہم آہنگی اور ترقی کے منصوبے مؤثر طریقے سے نافذ کیے جا سکیں۔ملاقات میں شامل رہنماؤں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ روحانی مراکز کا کردار صرف مذہبی یا روحانی نہیں بلکہ سماجی تانے بانے مضبوط کرنے میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ان اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ امن اور رواداری کے پیغام کو زمین پر محسوس کیا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے