ہارون اختر خان نے وزارتِ صنعت و پیداوار میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا استقبال کیا اور دونوں فریقین نے وفاقی اور صوبائی سطح پر تعاون کے ذریعے ایس ایم ایز کی ترقی پر مفصل گفتگو کی۔ ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال ہوا۔شرکائے ملاقات نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی مجموعی ترقی کے لیے سارے صوبے مل کر کام کریں تاکہ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز یعنی ایس ایم ایز کو موثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔ صوبائی کردار کو نہایت اہم قرار دیا گیا اور بلوچستان کی محنتی افرادی قوت اور موجودہ مواقع پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔بات چیت کے دوران وفاقی حکومت کی معاونت سے ہر شعبے میں خاص طور پر زرعی بنیادوں پر ایس ایم ایز اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی تیاری اور عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے روایتی اور مقامی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زور دیا گیا۔خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کو بھی ملاقات کا اہم حصہ قرار دیا گیا اور یہ بات دہرائی گئی کہ خواتین کے لیے خاص پروگرامز اور تربیتی مواقع فراہم کر کے انہیں مارکیٹ میں مقابلے کے قابل بنایا جائے گا۔ اس طرح مقامی سطح پر خواتین کی شمولیت معیشت کو مستحکم کرے گی۔دونوں رہنماؤں نے صوبہ اور مرکز کے مابین مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے پر اتفاق کیا جو ایس ایم ایز کے فروغ کے منصوبوں کو مربوط انداز میں نافذ کرے گی۔ ٹاسک فورس کا مقصد منصوبہ بندی، فنی مدد اور مارکیٹ تک رسائی کے راستے ہموار کرنا ہوگا تاکہ کاروباری سرگرمیاں تیزی سے فروغ پائیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبائی حکومت کی پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی کاروباری ماحول بہتر بنانے اور لوگوں کو اپنے کاروبار بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ وفاقی تعاون سے بلوچستان میں ہر شعبے میں ایس ایم ایز کی ترقی سے علاقائی و قومی معیشت دونوں کو تقویت ملے گی۔ملاقات کے اختتام پر ہارون اختر خان نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت جلد عملی اقدامات کے آغاز کی یقین دہانی کرائی گئی۔
