سندھ میں ایچ پی وی ویکسین مہم اور بچیوں کا تحفظ

newsdesk
3 Min Read

سندھ حکومت نے صوبے میں سروائیکل کینسر کے خلاف وسیع ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا ہے، جس کی مرکزی تقریب کراچی کے خاتونِِ پاکستان گورنمنٹ گرلز اسکول میں منعقد ہوئی۔ وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے مہم کا افتتاح کیا اور پہلی خوراک اسی اسکول کی ایک طالبہ کو لگائی گئی۔ مہم کے تحت اسکولوں، بنیادی صحت مراکز اور آئوٹ ریچ کے ذریعے چار کروڑ دس لاکھ (4.1 ملین) بچیوں کو ویکسینیشن کا ہدف دیا گیا ہے جبکہ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف سمیت ضلعی ٹیمیں عملدرآمد میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اب پاکستانی بیٹیاں سروائیکل کینسر سے محفوظ رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ویکسین اسکولوں، بنیادی مراکز اور آئوٹ ریچ مہم کے ذریعے فراہم کی جائے گی اور کوشش ہے کہ ایک بھی بچی ویکسین سے محروم نہ رہے۔ پہلی خوراک کا انتظام اسی سکول میں کیا گیا جہاں مہم کا آغاز ہوا۔

ڈاکٹر عذرا نے سروائیکل کینسر کو خواتین میں نمایاں کینسر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 4.1 ملین بچیوں کو یہ ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول اور کمیونٹی کی بچیاں ویکسینیشن کا حصہ بنیں گی کیونکہ بچیاں مستقبل کی مائیں ہیں اور ان کی صحت صوبائی انتظامیہ کی ترجیح ہے۔

وزیرِ صحت نے WHO، یونیسف اور ضلعی ٹیموں کے کردار پر زور دیا اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچانے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں تاکہ مہم کا مقصد مکمل طور پر حاصل ہو سکے۔

وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہمیں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو محفوظ بنانا ہے اور خواتین کی صحت اور سماجی مسائل کی طرف مکمل سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ انہوں نے صوبائی سطح پر تمام نجی اور سرکاری اسکولوں کو ایچ پی وی ویکسین کے حوالے سے ہدایات جاری کرنے کی بابت بتایا اور واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری یا نجی اسکول کی طرف سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔ سردار شاہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس نیک اقدام کا آغاز ایک سرکاری اسکول سے ہوا ہے اور عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے