کراچی: سندھ میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے 2013 میں قانون سازی کے باوجود متاثرہ خواتین کے تحفظ میں شدید چیلنجز برقرار ہیں، جن میں کمزور عملدرآمد، کم رپورٹنگ اور اداروں کے درمیان ناقص رابطہ شامل ہیں۔
یہ بات سندھ کمیشن برائے حیثیتِ خواتین اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے اشتراک سے کراچی میں منعقدہ ایک صوبائی پالیسی مکالمے کے دوران سامنے آئی، جس میں اہم پالیسی سازوں، اراکینِ پارلیمنٹ، سرکاری حکام، سول سوسائٹی اور پسماندہ طبقات کے نمائندگان نے شرکت کی۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ قانون ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم متاثرین کو شکایات درج کرانے، تحفظ کے نظام تک رسائی حاصل کرنے اور کمزور ریفرل سسٹم کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دیہی علاقوں میں قانونی آگاہی کی کمی، معاشرتی دباؤ اور خوف کے باعث کیسز رپورٹ نہیں ہو پاتے، جبکہ اداروں کے درمیان کمزور ہم آہنگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مکالمے کے دوران ایک پالیسی دستاویز بھی پیش کی گئی جس میں قانون پر مؤثر عملدرآمد کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان میں قانون میں ترامیم، ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، ایف آئی آر کے طریقہ کار میں بہتری، ریفرل سسٹم کو فعال بنانا، متعلقہ اداروں کی تربیت اور متاثرین کے تحفظ کے لیے مزید وسائل مختص کرنا شامل ہیں۔
لیگل ایڈ سوسائٹی کی وکیل ملیحہ ضیاء نے گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا، جس میں ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹرز کے قیام، پولیس نظام کی بہتری، ضلعی سطح پر مؤثر تحفظ کے نظام اور مربوط خدمات کی فراہمی کی تجاویز شامل تھیں۔
سندھ کمیشن برائے حیثیتِ خواتین کی چیئرپرسن روزینہ امان بروہی نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں میں قانون پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل نہیں ہو سکا، لہٰذا اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خواتین پولیس اسٹیشنز کو مضبوط بنانے، تحفظ مراکز میں اضافہ، آگاہی کے لیے بجٹ بڑھانے اور دیہی خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔
اختتامی خطاب میں صوبائی وزیر شاہین شیر علی نے کہا کہ قانونی آگاہی دیہی اور پسماندہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی ایک بڑی وجہ قوانین کا اردو اور سندھی زبان میں دستیاب نہ ہونا ہے۔ انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے گھر گھر آگاہی مہم چلانے کی تجویز دی اور کہا کہ لڑکیوں کو بااختیار بنانا گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
مکالمے کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سندھ میں گھریلو تشدد کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی، جوابدہی اور متاثرین پر مبنی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
