سیالکوٹ کے ساتھ روسی تجارتی تعلقات میں بڑھوتری کی راہیں

newsdesk
3 Min Read
سیالکوٹ چیمبر کے ساتھ کاروباری گفت و شنید میں سفیر خوروف نے روس پاکستان تجارت کے فروغ اور ویزا و سرٹیفیکیشن پر رہنمائی دی۔

سفیر البرٹ پی خوروف اور روسی تجارتی نمائندہ ڈینِس نیوزورووف نے 28 جنوری کو سیالکوٹ چیمبر برائے تجارت و صنعت کے اراکین کے ساتھ ایک تجارتی گفت و شنید میں شرکت کی جہاں مقامی صنعتکاروں کے سوالات اور تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر سیالکوٹ کے تاجروں نے اپنے تجربات اور روسی بازار میں درپیش چیلنجز کا ذکر کیا۔سفیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان طویل المدتی باہمی تجارتی روابط موجود ہیں اور فی الوقت تعاون کے بہت سے مواقع دستیاب ہیں جن میں مشترکہ منصوبوں کے قیام کا امکان خاص طور پر نمایاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس پاکستان تجارت کو معقول منصوبہ بندی، معیار کی بہتری اور واضح کاروباری ماڈلز کے ذریعے مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔مقررین نے مقامی صنعتکاروں کو مختلف کاروباری ماڈلز کی تجاویز دیں جن میں براہ راست برآمد، مقامی نمائندے یا ڈسٹری بیوٹر کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی، اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرمایہ اور مہارت کے اشتراک شامل ہیں۔ اس گفتگو میں واضح کیا گیا کہ ہر ماڈل کے لیے مختلف تقاضے اور شراکت داری کے اصول ہوتے ہیں جن کا تعین مذاکرات اور معاہدات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔شرکاء کے سوالات کے جواب میں سفیر نے ملٹی انٹری ویزا کے حصول کے عمومی مراحل اور تیاریوں پر رہنمائی فراہم کی، انہیں مشورہ دیا گیا کہ ویزا درخواست کے وقت ضروری دستاویزات، کاروباری دعوت نامہ اور متعلقہ معلومات مکمل طور پر تیار رکھی جائیں تاکہ عمل آسان ہو۔ انہوں نے ادارہ جاتی تعاون اور روسی تجارتی نمائندے کے ساتھ روابط کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔مصنوعاتی سرٹیفیکیشن کے حوالے سے رہنمائی میں زور دیا گیا کہ مقامی مینوفیکچررز کو اپنے معیار اور معیاری دستاویزات کو شفاف انداز میں تیار رکھنا چاہئے تاکہ روسی منڈی کے تقاضوں کے مطابق مصنوعات کی جانچ اور تصدیق ممکن ہو سکے۔ اس ضمن میں معیار، لیبلنگ اور مناسب جانچ کے طریقہ کار کو بروئے کار لانا پیشگی تیاری سمجھا گیا۔گفت و شنید کے دوران پوچھے گئے دیگر موضوعات میں مارکیٹ داخلے کی حکمتِ عملی، لاجسٹکس کے بنیادی پہلو، اور مشترکہ سرمایہ کاری کے معاہدوں کی افادیت شامل رہی۔ مقامی صنعتکاروں نے سفیر اور روسی نمائندے کی عملی رہنمائی کو مفید قرار دیا اور کہا کہ یہ مشاورت سیالکوٹ کے ہنر و صنعت کو روسی منڈی تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ روس پاکستان تجارت کو فروغ دینے کے لیے باہمی رابطے اور مشترکہ منصوبہ بندی ہی کامیابی کی کنجی سمجھی گئی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے