شنگھائی تعاون تنظیم کا ایران کی صورتحال پر بیان

newsdesk
2 Min Read
شنگھائی تعاون تنظیم نے ایران میں حالیہ واقعات پر گہری تشویش اور تعزیت کا اظہار کیا، یکطرفہ پابندیوں کے منفی اثرات اور پرامن سیاسی حل پر زور دیا

شنگھائی تعاون تنظیم نے جمہوریہ اسلامی ایران میں حالیہ تشویشناک واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ ان واقعات کے نتیجے میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے جانی اور مالی نقصان کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی بڑا نقصان پہنچا ہے، جس سے عام عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم نے ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس المیہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور حمایت ضروری ہے۔ تنظیم نے امن و استحکام کی حفاظت کے لیے ہمدردانہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔تنظیم نے واضح کیا ہے کہ یکطرفہ پابندیوں نے ملکی معاشی استحکام پر نمایاں منفی اثرات مرتب کیے ہیں، عوام کی معاشی حالت بگڑی ہے اور حکومت کی سماجی و اقتصادی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات رواں رکھنے کی صلاحیت محدود ہوئی ہے۔ یہ بات تنظیم کے بیانیے میں بار بار سامنے آئی کہ معیشت اور عوامی فلاح و بہبود کو درپیش رکاوٹیں تشویشناک ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم نے غیر مداخلت کے اصول پر قائم رہتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کی تاکید کی ہے اور طاقت کے استعمال یا زور کے ذریعہ دھمکی کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم نے تمام فریقین سے سیاسی اور سفارتی راستوں کے ذریعے مسئلے کے پرامن حل کی اپیل کی ہے اور تنازعہ کو بڑھنے سے روکنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ صورتحال کے پرامن حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور سفارتی اقدامات واحد قابلِ عمل راستہ ہیں اور تمام متعلقہ فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ شنگھائی تعاون تنظیم نے علاقائی استحکام کی بحالی اور انسانی نقصانات کو کم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ۱۶ جنوری ۲۰۲۶

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے