سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ کی غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس سے ملاقات، پی ایم ڈی سی پالیسی بحران پر پارلیمانی سطح پر آواز اٹھانے کا عزم

newsdesk
3 Min Read
سینیٹر دانیش کمار اور گوردیپ سنگھ نے پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کی پالیسی سے متاثر غیر ملکی طبی فارغ التحصیلوں کے لیے سینٹ میں مداخلت کا اعلان کیا

سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ کی غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس سے ملاقات، پی ایم ڈی سی پالیسی بحران پر پارلیمانی سطح پر آواز اٹھانے کا عزم


اسلام آباد — سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ نے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کے وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت ڈاکٹر رافع شیر نے کی۔ ملاقات میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی حالیہ پالیسی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے بحران پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جنہوں نے ہزاروں پاکستانی ڈاکٹروں کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ڈاکٹر رافع شیر نے سینیٹرز کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کے نئے ضوابط کا سابقہ اطلاق (ریٹروایکٹیو امپلی مینٹیشن) ان طلبا کے لیے غیر منصفانہ ثابت ہوا ہے جنہوں نے کرغزستان، چین، ازبکستان، روس، جارجیا اور قازقستان جیسے ممالک کی تسلیم شدہ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو داخلے کے وقت پی ایم ڈی سی کی منظوری حاصل تھی لیکن اب اچانک پالیسی میں تبدیلی کے باعث ان ڈاکٹروں کو عبوری لائسنس (Provisional License) سے محروم کر دیا گیا ہے۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ غیر متوقع اور غیر مربوط پالیسی فیصلے نہ صرف درجنوں نوجوان ڈاکٹروں کے پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ ان افراد کی محنت اور جذبے کو بھی ضائع کر رہے ہیں جو بیرونِ ملک تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر قومی صحت کے نظام میں خدمات انجام دینا چاہتے تھے۔

سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سینیٹ میں اور وزارتِ قومی صحت کے ساتھ بھرپور انداز میں اٹھائیں گے تاکہ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی پالیسی یقینی بنائی جا سکے۔

سینیٹر دانش کمار نے کہا کہ “غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی غیر ملکی تعلیم کو اثاثہ سمجھا جانا چاہیے، رکاوٹ نہیں۔” سینیٹر گردیپ سنگھ نے کہا کہ پالیسی کا سابقہ اطلاق غیر منصفانہ ہے اور اس کا فوری جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قابل ڈاکٹر کے کیریئر کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں سینیٹرز نے اس معاملے کو پارلیمانی سطح پر اٹھانے اور وزارتِ صحت کے ساتھ رابطے میں رہنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ پی ایم ڈی سی بحران کا ایک ایسا حل نکالا جا سکے جو انصاف، میرٹ اور مساوی مواقع کے اصولوں پر مبنی ہو۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے