اسلام آباد میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے فسطینی سفیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان اور فلسطين کا تعلق مذہبی، تاریخی اور برادرانہ بنیادوں پر قائم ہے اور پاکستان ہر فورم پر فلسطین کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے کھڑا ہے۔فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کی جارحیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کی سخت مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔چیئرمین نے بتایا کہ بطور وزیرِاعظم بھی وہ ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز اٹھاتے رہے اور بین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی مظالم کے خلاف موقف اختیار کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ حالیہ جنگ بندی ایک نئی امید کی کرن کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔سینیٹ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرتا آیا ہے اور فلسطین کے منصفانہ حل کو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی کنجی قرار دیا۔ پاکستان ایک آزاد، قابلِ عمل اور مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہے جو متعلقہ اقوامِ متحدہ قراردادوں اور قبل از ۱۹۶۷ سرحدوں کے مطابق ہو۔ملاقات میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانے کی کاوشوں پر بھی بات ہوئی اور سینیٹ چیئرمین نے کہا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، بین الاقوامی پارلیمانی اتحاد اور غیر وابستہ تحریک میں فلسطین کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔فلسطینی سفیر نے غزہ کے عوام کے لیے پاکستان کی امدادی سرگرمیوں اور پاکستانی جامعات کی جانب سے فلسطینی طلبہ کو فراہم کیے جانے والے اعلیٰ تعلیمی مواقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ چیئرمین نے مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور انسانی امداد جاری رکھے گا جب تک فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا حصول ممکن نہ ہو۔
