سینیٹ پاکستان نے پارلیمنٹ سولر توانائی پر منتقل کر دی

newsdesk
3 Min Read
سینیٹ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلنے والی قانون ساز اسمبلی بنی؛ جنیوا میں مصنوعی ذہانت منصوبہ بھی بتایا گیا

حفیظ اللہ شیخ، سینیٹ پاکستان کے خصوصی سیکرٹری، نے جنیوا میں منعقدہ بین الاقوامی پارلیمانی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے پارلیمنٹ کو جدید، مضبوط اور عوام مرکز ادارہ بنانے میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی پر کام کرتی ہے، جو ماحولیاتی پائیداری اور شفاف حکمرانی کے عزم کی عکاسی ہے۔حفیظ اللہ شیخ نے مزید کہا کہ سینیٹ پاکستان نے معزز چیئرمین سینیٹ، سید یوسف رضا گیلانی، جن کا سابقہ عہدہ وزیرِ اعظم رہ چکا ہے اور وہ بین الاقوامی پارلیمانی مقررین کانفرنس کے بانی صدر بھی ہیں، کی بصیرت اور رہنمائی میں ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام قانون سازی کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے اور پارلیمانی جدیدیت کی واضح مثال ہے۔اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان اور عملہ قانون سازی کے ریکارڈ، کمیٹی رپورٹس اور اجلاسوں کے مباحثوں تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے فیصلوں کی تیاری میں تیزی اور جواب دہی میں اضافہ ہوگا۔ حفیظ اللہ شیخ نے اس منصوبے کو عوامی خدمت کی بہتری اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ کے طور پر پیش کیا اور واضح کیا کہ پارلیمانی جدیدیت کے یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر قابلِ ذکر ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں اس معزز عالمی فورم میں دوسری مرتبہ خطاب کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جس سے وہ پہلے پاکستانی افسر بنے جنہوں نے دو مرتبہ اس پلیٹ فارم پر تقریر کی۔ ان کا پہلے خطاب دو ہزار چوبیس میں بھی اسی فورم پر ہوا تھا، اور تاحال اس فورم پر بولنے کے لیے صرف دو پاکستانی مقررین کو مدعو کیا گیا ہے۔حفیظ اللہ شیخ کے مطابق یہ پیش رفت سینیٹ پاکستان کے اس عزم کا ثبوت ہے کہ ادارہ ٹیکنالوجی کو اپنے طرزِ عمل میں شامل کر کے شفافیت، خدمتِ عامہ اور پارلیمانی جدیدیت کے نئے معیار قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شمسی توانائی اور مصنوعی ذہانت کے جذبے سے چلنے والے یہ اقدامات ملکی قانون سازی کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنائیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے