اسلام آباد: سینیٹ سیکرٹریٹ میں خصوصی اقدامات کے موضوع پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سینیٹ کے چیئرمین کے مشیر محترمہ ردا قاضی، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم)، اور اقوام متحدہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا مقصد پارلیمانی سطح پر ہجرت سے متعلق اقدامات کو عوامی مفاد کے مرکز میں لانا اور بین الاقوامی شراکت داری کو قومی پالیسی سے ہم آہنگ کرنا تھا۔
اجلاس میں محترمہ ردا قاضی نے کہا کہ سینیٹ میں "اسپیشل انیشی ایٹیوز ونگ” کا قیام چیئرمین سینیٹ کے عوام پر مبنی پارلیمان کے ویژن کی جانب پہلا قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نئے نظام کے تحت سینیٹ کی آئینی ذمہ داری کو مزید تقویت ملے گی اور بین الاقوامی شراکت داریاں قومی اور علاقائی ترجیحات کے مطابق طے کی جائیں گی تاکہ پارلیمانی کارروائی عوامی امنگوں کی ترجمان بن سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہجرت کے مسائل پر پارلیمان کا کردار صرف نگرانی یا قانون سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پالیسیاں وضع کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نقل مکانی سے جڑے نئے چیلنجز اور مواقع کو صحیح طور پر حل کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹیوں اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ہجرت کو ترقیاتی پالیسیوں میں شامل کیا جا سکتا ہے، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور رابطہ کاری کے نظام کو جامع اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔
محترمہ ردا قاضی نے مزید کہا کہ منتشر اقدامات کے بجائے منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ اداروں کی کارکردگی پر احتساب بڑھایا جا سکے اور قانون سازی بہتر ہو۔ اس مقصد کے لیے پارلیمانی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو ہجرت سے متعلق پالیسیوں کو مرکزی دھارے میں لانے میں مدد دے گی۔
اجلاس میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا گیا جن کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ محترمہ قاضی نے قانونی ہجرت کے حوالے سے سینیٹ کے مثبت رویے کو دہرایا اور کہا کہ ایوان بالا پاکستانیوں کو بیرون ملک مواقع فراہم کرنے کے لیے پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کا حامی ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندگان نے ہجرت سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل پر زور دیا اور کہا کہ ہجرت کو صرف محنت یا ترقیاتی مسئلہ نہیں بلکہ سفارتی ترجیح بنانا چاہیے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور صحت سے جڑی نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی توجہ دلائی اور بتایا کہ اقوام متحدہ اس حوالے سے متعدد منصوبے اور مہارت فراہم کر رہا ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اجلاس میں وسائل کی فراہمی اور مالی مشکلات پر بھی بات چیت ہوئی۔ اقوام متحدہ کے نمائندوں نے مشورہ دیا کہ روایتی ذرائع کے علاوہ نئے اور متبادل مالی وسائل جیسے کلائمٹ فنانس اور ابھرتے ہوئے ڈونرز کے ساتھ شراکت داری کو بھی تلاش کیا جائے، جس میں پارلیمانی سفارت کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دونوں جانب سے واضح عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہجرت کے مسائل پر تعاون اور سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، اور باہمی مکالمہ، نت نئے اشتراک اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے اس حوالے سے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
