خالی نشستیں، مہنگی فیسیں اور گرتا معیار، نجی میڈیکل تعلیم پر سنگین سوالات
ندیم تنولی
اسلام آباد: ملک میں طبی تعلیم کے شعبے میں سنگین بحران سامنے آ گیا ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے نجی میڈیکل کالجوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان بے ضابطگیوں میں خالی نشستیں، زائد فیسوں کی وصولی، تدریسی اسپتالوں کی عدم موجودگی اور تعلیمی معیار میں کمی شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران سب سے حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا کہ ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد طلبہ کے ایم ڈی کیٹ امتحان میں کامیاب ہونے کے باوجود نجی میڈیکل کالجوں میں ہزاروں نشستیں خالی ہیں۔ اراکینِ سینیٹ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ مالی مسائل اس کی بڑی وجہ ہیں اور نشاندہی کی کہ آغا خان اور ضیاء الدین جیسے معیاری اداروں میں کوئی نشست خالی نہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ معیارِ تعلیم ہے۔
آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو کی تقرری پر سوالات، حکام خاموش
سینیٹر روبینہ خالد نے ایم ڈی کیٹ کے پاسنگ نمبرز کو ایم بی بی ایس کے لیے 55 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد تک کم کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام کمزور نجی کالجوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے ریگولیٹری نظام میں مفادات کے ٹکراؤ کا بھی الزام عائد کیا۔
حکام نے اعتراف کیا کہ کئی نجی کالج طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام ہیں اور ان میں بنیادی معیار کی کمی ہے۔ اعلان کیا گیا کہ خالی نشستوں والے تمام کالجوں کا ازسرِ نو معائنہ کیا جائے گا، جس سے غیر معیاری اداروں کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پمز میں ریٹائرڈ پروفیسر کی مسلسل توسیع پر سوال
بحث کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض کالجوں میں فعال تدریسی اسپتال موجود نہیں، حالانکہ قواعد کے مطابق 100 طلبہ کے لیے 500 بستروں اور 150 طلبہ کے لیے 650 بستروں پر مشتمل اسپتال ہونا ضروری ہے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ بغیر مناسب طبی سہولیات کے اداروں کو کام کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے اس صورتحال کو ایک “کمزور پہلو” قرار دیا جبکہ دیگر شرکا نے کہا کہ کئی اداروں میں اسپتال کی سہولت کے بغیر ہی طلبہ سے فیسیں وصول کی جا رہی ہیں۔
نجی میڈیکل کالجوں کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سالانہ فیس کی مقررہ حد 18 لاکھ روپے ہونے کے باوجود بعض ادارے 19 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک وصول کر رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ 15 سے 18 کالجوں نے اس حد کی خلاف ورزی کی، جنہیں اضافی رقم واپس کرنے اور داخلہ پورٹل عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اراکینِ سینیٹ نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ اقدامات کافی ہیں، کیونکہ بار بار خلاف ورزیاں کمزور عملدرآمد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اجلاس میں ایک اور اہم مسئلہ سرکاری اداروں سے تجربہ کار اساتذہ کا نجی کالجوں کی جانب منتقل ہونا بھی زیر بحث آیا، جس کی وجہ بہتر تنخواہیں بتائی گئی۔ اراکین نے خبردار کیا کہ اس رجحان سے سرکاری تعلیمی ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
مزید برآں بیرونِ ملک طلبہ کے لیے مختص 15 فیصد کوٹہ اور مقامی سطح پر محدود نشستوں کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ہر سال 40 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ میڈیکل تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں جس سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔
بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر متعلقہ حکام نے نجی میڈیکل کالجوں کو حتمی وارننگ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ فیسوں اور دیگر قواعد کی مکمل پابندی کی جائے، بصورت دیگر منظوری معطل کرنے اور داخلے روکنے جیسے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اجلاس میں شریک ایک سینئر رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ موجودہ صورتحال ایک “نظامی ناکامی” کی عکاس ہے جہاں تجارتی مفادات نے تعلیمی معیار پر سبقت حاصل کر لی ہے، جبکہ دیگر ماہرین نے خبردار کیا کہ فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کے طبی تعلیمی نظام کی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔


