سیلاب زدہ علاقوں میں وزارت صحت کی فوری طبی امداد اور حفاظتی اقدامات

newsdesk
4 Min Read

وفاقی وزارت صحت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری اور مؤثر طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت، مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہے تاکہ متاثرہ لوگوں تک ادویات، ویکسینز اور دیگر طبی سہولیات فوراً فراہم کی جائیں۔

وزیر صحت نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزارت صحت نے کسی بھی سرکاری درخواست کا انتظار کیے بغیر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور صوبوں کی طرف سے طبی ضروریات موصول ہوتے ہی ادویات اور دیگر سازوسامان بروقت متاثرہ علاقوں کو بھیجا۔ ان کے مطابق، خیبر پختونخوا کو اب تک 3,410 کلوگرام اور گلگت بلتستان کو 350 کلوگرام ادویات فراہم کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، سیلاب کے پانی میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے 2,50,000 پینٹاویلنٹ ویکسین اور 1,50,000 خسرہ و روبیلا ویکسین بھی بھیجی گئی ہیں۔ متاثرین کے لیے بڑی مقدار میں اینٹی بائیوٹکس، اینٹی پائریٹکس، دردکش ادویات اور علاج و بچاؤ کی دیگر ادویات بھی روانہ کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع شانگلہ کی درخواست پر پمز کے 12 اور پولی کلینک کے 8 ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم فوراً بھیجی گئی تاکہ متاثرین کو موقع پر علاج کی سہولت دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہزاروں مچھر دانیاں بھی تقسیم کی گئی ہیں۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق، وزارت صحت کی ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے ذریعے ہر طرح کی صورتحال کی 24 گھنٹے نگرانی جاری ہے۔ ٹیمیں مقامی افسران، اور صوبائی محکمہ صحت سے مل کر حقیقی وقت میں اعداد و شمار اکٹھے کر رہی ہیں اور ہر ابھرتی ہوئی فوری طبی ضرورت کا جواب دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ادویات اور طبی سامان کی تمام فراہمی وفاقی حکومت کے وسائل سے کی گئی ہے اور اب تک کسی بیرونی امداد یا ڈونیشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ادارے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کر رہے ہیں اور اگر مستقبل میں کسی بیرونی امداد یا اشتراک کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ ادارے اس کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ وزارت صحت کسی قسم کے سیاسی، انتظامی یا علاقائی تعصب کے بغیر تمام پاکستانیوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور متعلقہ صوبوں، ضلعی افسران اور مقامی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ کسی بھی جگہ موت، زخم یا بیماری کی خبریں ملتے ہی فوری ردعمل دیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ متاثرہ شہریوں کی امداد کے لیے سرگرم عمل ہے اور کسی بھی نئی صورتِ حال کے لیے تیار ہے۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر مصطفیٰ کمال نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کو اس آزمائش سے جلد نجات اور ہر طرح کی آفات سے تحفظ عطا فرمائے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے