اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے زیر اہتمام منعقدہ قومی بچوں کے کنونشن میں بارسٹر دانیال چوہدری نے بچوں کی آن لائن دنیا کے تحفظ کو ملک کی طویل المدتی ٹیکنالوجی منصوبہ بندی کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوری حفاظتی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملیاں ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے بنیاد ہیں۔بارسٹر دانیال نے کہا کہ مکمل پابندیاں بچوں کے سیکھنے اور اظہار کے حقوق کو محدود کرتی ہیں، اس لیے ڈیجیٹل حفاظت کو روک تھام کی بجائے رہنمائی اور بااختیار بنانے کے نقطۂ نظر سے دیکھنا پڑے گا۔ انہوں نے سائبر بُلنگ، نامناسب مواد، ڈیپ فیک اور آن لائن ہراسانی کو سنگین چیلنجز قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف اجتماعی اور مربوط ردِعمل درکار ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرے گی تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات خصوصاً مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات کا بروقت احاطہ ممکن بنایا جا سکے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی یقینی بنائی جائے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم کے 2030 تک ایک ارب ڈالر کے قومی مصنوعی ذہانت ماحولیاتی نظام کے ہدف کو بچوں کے محفوظ ماحول کے ساتھ مربوط رکھا جا رہا ہے تاکہ ترقی اور تحفظ ساتھ چل سکیں۔بارسٹر دانیال نے والدین، اساتذہ، ضابطہ سازوں اور ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کے مشترکہ کردار پر زور دیا اور کہا کہ بچوں کو قواعد و ضوابط کے بارے میں باخبر کرنا اور انہیں آن لائن خطروں کی شناخت سکھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی میں بچوں کی آواز شامل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں رہے گا تاکہ پالیسیاں ان کے تجربات اور ضروریات کے عین مطابق ہوں۔تقریب میں انہوں نے نوجوانوں سے بھی گزارش کی کہ وہ ذمہ دار آن لائن رویہ اپنائیں، مشکوک سرگرمی رپورٹ کریں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی حفاظت کے بارے میں شعور بڑھائیں۔ حکومت کی حکمتِ عملی کا مقصد ایک محفوظ، باخبر اور بااختیار ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے جہاں نوجوان سیکھ سکیں، تخلیق کر سکیں اور اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں۔
