روسیہ کی باضابطہ شرکت سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی بین پارلیمانی کانفرنس کو غیر معمولی سیاسی اہمیت مل گئی ہے۔ بین پارلیمانی کانفرنس میں اب تک ۴۵ رکن ممالک کے حصہ لینے کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ اجلاس مذہب، بین المذہب ہم آہنگی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی مذاکرات کا مرکزی مرکز بننے کی توقع رکھتا ہے۔کانفرنس کی تنظیم میں شریک رہنماء اور انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی کمیٹی کی نمائندہ مسِباہ کھار نے کہا کہ یہ محض ڈپلومیسی کا اجتماع نہیں بلکہ امن، تعاون اور مشترکہ موسمیاتی کاروائی کا عالمی پیغام ہے۔ مسِباہ کھار نے توقع ظاہر کی کہ بین پارلیمانی کانفرنس مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے نمائندوں کو مشترکہ بنیاد فراہم کرے گی۔روسی نمائندگی اعلیٰ سطح پر متوقع ہے اور روس اپنے معروف نائب اسپیکر کو بھیج رہا ہے جو بین الاقوامی تعلقات اور پارلیمانی رابطوں میں نمایاں کردار رکھتے ہیں۔ اس بلند مقام کی شرکت نے کانفرنس کی سرکاری حیثیت اور اس کے اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے اور مذاکرات کو وسیع تر قبولیت ملنے کی امید بڑھ گئی ہے۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے روسی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس دونوں ایوانوں اور دنیا بھر کے سینئر پارلیمانی نمائندوں کو ایک چھت تلے لاتا ہے، اس لیے اس کا مفاہمتی اور سفارتی پہلو انتہائی اہم ہے۔ بین پارلیمانی کانفرنس کی پہچان شمولیتی اور دوررس حکمت عملی کے طور پر ہو رہی ہے، جس میں موضوعاتی نشستیں اور دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے بتایا کہ تیاریوں کو اعلیٰ سفارتی معیار کے مطابق مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ اجلاس کے دوران شائستہ اور پیشہ ورانہ ماحول برقرار رہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس پارلیمانز کے ذریعے لوگوں کے درمیان ربط اور عالمی یکجہتی کے پیغام کو تقویت دینے کا موقع ہے، خاص طور پر جب ایجنڈے کا مرکزی محور مذہبی ہم آہنگی اور موسمیاتی عمل ہے۔
