روس اور پاکستان میں پارلیمانی روابط میں پیش رفت

newsdesk
3 Min Read
12 نومبر کو اسلام آباد میں ملاقات میں روسی وفد اور چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ موقف پر زور دیا۔

کنستانتن کوساچیو اور الیکسنڈر باباکوف کی قیادت میں روسی وفد نے 12 نومبر کو اسلام آباد میں انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں طرف سے باہمی عزت اور رواداری کے ماحول میں روابط مضبوط کرنے پر بات ہوئی۔ملاقات میں شرکاء نے روایتی سفارت کاری کی تکمیل کے طور پر پارلیمانی تعاون کی افادیت پر زور دیا اور کہا کہ پارلیمانی تعاون عالمی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر ملکوں کے درمیان باہمی تفہیم اور قانونی و سیاسی مکالمے کو فروغ دیتا ہے اور دونوں پارلیامنٹس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔روسی وفد نے پاکستانی قیادت اور خاص طور پر جناب گیلانی کا دعوت اور گرمجوش استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا اور آئندہ تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے پارلیمانی سطح پر تبادلۂ خیال اور ملاقاتوں کو جاری رکھنے کے ارادے کا اعادہ کیا تاکہ باہمی تعلقات میں پختگی آئے۔روسی وفد نے 11 نومبر کو اسلام آباد کے عدالتی کمپلیکس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور ہر شکل میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر شراکت اور معلومات کے تبادلے سے رابطے مضبوط ہوں گے اور امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔جناب گیلانی نے مئی میں روس کے اپنے حالیہ دورے کی یادیں شیئر کیں اور فیڈریشن کونسل کی اسپیکر والنٹینا ماٹویینکو کے ساتھ اپنے تبادلۂ خیال کو نمایاں کیا، جس سے دونوں طرف کے پارلیمانی رابطوں کی تاریخ اور اعتماد کی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس گفتگو میں پارلیمانی تعاون کی ممکنہ راہوں اور مشترکہ منصوبوں پر بات چیت ہوئی۔کنستانتن کوساچیو نے انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے سیکریٹری جنرل ایک نت دھاکال سے بھی ملاقات کی اور کانفرنس کے دائرہ کار میں پارلیمانی رابطوں کو وسیع کرنے اور متعلقہ فورمز کے ذریعے تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو سے یہ واضح ہوا کہ دونوں طرف سے عملی تعاون کے لئے راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔یہ ملاقات مجموعی طور پر روس اور پاکستان کے درمیان پارلیمانی تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل میں قانون ساز اداروں کے درمیان مسلسل رابطے سے باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی سطح پر مسائل کے حل میں مدد ملنے کی توقع ظاہر ہوتی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے