قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا آٹھواں اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی عبوری صدارت شگفتہ جمانی، رکنِ قومی اسمبلی نے کی۔ اجلاس میں روضۂ رسول کی زیارت کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی وفد کی آمد و روانگی کے انتظامات کو مرکزی اہمیت دی گئی۔قائم کنوینر نے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس میں روضۂ رسول کی زیارت کے لیے تیار کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی تجاویز شامل تھیں۔ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم پر غور کیا، انہیں بہتر بنایا اور وزارت کو ہدایت دی کہ اپڈیٹ شدہ ورژن قومی اسمبلی کے قانون سازی کے عمل کے لیے جلد جمع کرائے۔ اجلاس میں روضۂ رسول کے موقع پر عزت و وقار کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وفد کی بروقت نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ اعلیٰ سطحی وفد کو سعودی عرب میں سرکاری مہمان کے طور پر مراعات دی جائیں اور ان کے دوروں، ملاقاتوں اور مصروفیات کو روانگی سے قبل مکمل شیڈول کیا جائے۔ وزیرِ محترم نے یقین دہانی کرائی کہ وفد کی سہولت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں معاونین کے موجودہ انتخابی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور وزارت کو ہدایت دی گئی کہ وہ معاونین کے انتخاب کے معیار کا دوبارہ جائزہ لے کر اگلی حج پالیسی دو ہزار ستائیس میں متعلقہ ترامیم پیش کرے۔ اس معاملے کو زائرین کی بہتر خدمت کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔قائمہ صدر نے نوٹ کیا کہ بغداد اور کربلا معلا میں زائرین کے لیے باقاعدہ سہولت کاری دفاتر موجود نہیں ہیں اور سیکرٹری وزارت کو ہدایت کی گئی کہ دونوں مقامات پر مکمل ساختی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ روضۂ رسول اور دیگر زیارات کے سلسلے میں زائرین کو بروقت اور منظم سہولیات فراہم کی جا سکیں۔مزید برآں، وزیرِ اعلیٰ نے زور دیا کہ زائرین کے لیے جامع انتظامات کیے جائیں اور وزارت ایک قابلِ عمل سبسڈی پیکج تیار کرے جو حج کے مسافروں کو فراہم کردہ سہولتوں کے مساوی ہو۔ کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ساتھ مشاورت کر کے زائرین کے لیے سبسڈائزڈ ہوائی کرایے شروع کرنے کی سخت سفارش کی اور اگلے اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے چیئرمین کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔سیکرٹری نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستان ہاؤسز کی بحالی کے منصوبے، پاکستان حج مشن میں تعینات افسران اور اہلکاروں کے لیے مختص اور استعمال شدہ فنڈز کی ماہانہ و سالانہ تفصیلات اور سابقہ سفارشات کے نفاذ کی جامع رپورٹ کمیٹی کو پیش کی۔اجلاس میں مسٹر اعجاز الحق ضیا، پیر سید فضل علی شاہ جیلانی، سیما محی الدین جمیلی، آسیہ ناز تانولی، ڈاکٹر نیلسن عظیم، ثمینہ خالد گھڑکی، احمد سلیم صدیقی، مسرت رفیق مہ، منیبہ اقبال اور نیلم سمیت متعلقہ ارکان نے شرکت کی جبکہ وزیرِ محترم، سیکرٹری اور وزارت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں سوال نمبر اکسٹھ جو محترمہ نعیمہ کشور خان کی جانب سے مؤخر کر دیا گیا تھا اس کی مؤخر اندازی کی اطلاع دی گئی۔ کمیٹی نے پچھلے اجلاس کے منٹ بھی متفقہ طور پر منظور کر لیے۔ اجلاس کا ریکارڈ سیکرٹری کمیٹی حماد اللہ قاضی نے جاری کیا۔
