روٹری انٹرنیشنل نے عالمی ادارۂ صحت پاکستان کو 9.9 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی ہے جو ہائی رسک اضلاع میں دو کروڑ ستر لاکھ بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے استعمال ہوگی۔ یہ فنڈز حکومتِ پاکستان کی قیادت میں چلنے والی پولیو خاتمے کی مہم کے آپریشنز کو مضبوط کریں گے۔حکومت کی زیرِ قیادت اس مہم میں سالانہ گھر گھر ویکسینیشن مہمات اور صوبائی سطح کی ڈرائیوز شامل ہیں جن کے ذریعے چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچا جاتا ہے۔ اس تعاون کا مقصد خاص طور پر بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہائی رسک اضلاع میں حفاظتی کوششوں کو بڑھانا ہے تاکہ پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کیا جا سکے۔روٹری اس عالمی مہم کی بانی شراکت دار تنظیموں میں شامل ہے اور اس نے عالمی سطح پر پولیو خاتمے کی کوششوں میں سرمایہ اور وولنٹیئر خدمات فراہم کی ہیں۔ اس ادارے نے عالمی کوششوں کے لیے تین ارب امریکی ڈالر تک کا تعاون کیا اور پاکستان کیلئے مجموعی امداد تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے؛ 1994 میں تقریباً بیس ہزار کیسز تھے جو 2025 میں تین اَن تک پہنچ گئے، یعنی 99.8 فیصد کمی۔ عالمی سطح پر بھی 1988 سے پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم وحشی پولیو وائرس کی جرمنی میں گزشتہ نومبر میں نشان دہی نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وائرس کی مکمل سرکوبی تک کسی بھی ملک یا بچے کی محفوظی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔عالمی ادارۂ صحت پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے روٹری کی اس مستقل معاونت کو سراہا اور کہا کہ شراکت داری لاکھوں بچوں کی حفاظت کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنس کے روشن اشارے یہ بتاتے ہیں کہ مناسب اور لگاتار کوششوں سے دنیا سے پولیو کا خاتمہ ممکن ہے، مگر بے توجہی کے نتائج بھاری ہوں گے۔روٹری کی یہ گرانٹ مجموعی طور پر 14.9 ملین امریکی ڈالر کے بڑے تعاون کا حصہ ہے جو پاکستان میں پولیو خاتمے کی کوششوں کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ یہ رقم مہماتی آپریشنز، عملہ اور مراعات، تربیتی پروگرام، نقل و حمل، فرنٹ لائن ورکرز کے لیے ساز و سامان، ویکسین کی کیریئرز اور دیگر عملی اخراجات پر خرچ کی جائے گی تاکہ ہدف شدہ اضلاع میں مؤثر انداز میں ویکسینیشن ممکن بنائی جا سکے۔پولیو مہم کے یہ مرحلے قومی اور بین الاقوامی شراکت داری کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں اور مقامی سطح پر مستقل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ آخرکار ملک میں اور دنیا بھر میں پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
