رومانیہ کی نمائندہ اوانا ٹُویو کی وفاقی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ سے ملاقات اور کاروباری کمیٹی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون میں وسعت کے امکانات اور مشترکہ سرمایہ کاری کے راستوں کو نئی ترجیح دینے پر اتفاق ہوا۔
اوانا ٹُویو نے اسلام آباد میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ سے صدارت سیکریٹریٹ میں ملاقات کی اور رومانیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے دستیاب کاروباری مواقع پیش کیے۔ انہیں بزنس ڈیویلپمنٹ کمیٹی برائے یورپ و شمالی امریکہ کی میزبانی بھی حاصل رہی، جہاں تعمیری اور مستقبل نگر مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات میں رومانیہ اور پاکستان کی معیشتوں کو ایک دوسرے کے تکمیلی قرار دیا گیا اور مختلف شعبوں میں تجارتی توسیع کے واضح امکانات اجاگر کیے گئے۔ آٹوموٹو، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل اور صحت کے شعبے انہیں شعبوں کے طور پر سامنے آئے جن میں فوری تعاون ممکن ہے۔
شرکاء نے زور دیا کہ تعلقات کو محض خریدار–فروخت کنندہ کے رشتے سے آگے لے جا کر مشترکہ منصوبوں اور باہمی سرمایہ کاری کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، توانائی اور فوڈ پروسیسنگ میں مشترکہ یونٹس اور کو-انویسٹمنٹ کو مستقبل کا راستہ قرار دیا گیا۔
رومانیہ نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے یورپی یونین تک اسٹریٹیجک دروازہ قرار پاتے ہوئے مسابقتی لاگت، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی خصوصیات اجاگر کیں، جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے دونوں طرف کے سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے رومانیہ کو یورپ میں پاکستان کا ایک قابلِ اعتماد تجارتی شراکت دار قرار دیا اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے حوالے سے مفید تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اعتراف کیا کہ موجودہ تجارتی حجم اپنی مکمل صلاحیت سے کم ہے اور اسے بڑھانے کے لیے خاطر خواہ گنجائش موجود ہے۔
ملاقات کے اختتام پر متنوع شعبوں خصوصاً توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت میں تعاون کے عملی امکانات تلاش کرنے اور پاکستان کے کاروباری حلقوں کے ساتھ قریبی شراکت داری کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ یہ اعلامیہ رومانیہ کی وزارتِ خارجہ کی نمائندہ اوانا ٹُویو کی جانب سے جاری کیا گیا۔
