راولپنڈی میں میونسپل لیبر یونین کے زیر اہتمام میونسپل کارپوریشن سے پریس کلب تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں سینٹری ورکرز، سپر وائزرز اور یونین عہدیداران نے شرکت کی۔ ریلی کا مقصد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے مطالبات کی منظوری اور تنخواہوں و ملازمتوں کا مستقل حل تھا۔
اس احتجاج کی قیادت میونسپل لیبر یونین کے صدر راجہ ہارون اور جنرل سیکرٹری پادری شاہد رضا نے کی۔ اس موقع پر یونین رہنماؤں نے کہا کہ مزدوروں کو ان کا حق وقت پر ادا کرنا ہر دور کا اصول رہا ہے مگر اب یہ صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر شہر کی صفائی کے لیے ملازمین نے بھرپور محنت کی، اس کے باوجود انہیں ایک ماہ کی تنخواہ بطور الاؤنس تاحال نہیں مل سکی۔
یونین رہنماؤں نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین، جو کہ ڈپٹی کمشنر بھی ہیں، پر الزام عائد کیا کہ وہ ملازمین کے حقوق کے معاملے میں مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 900 ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن بورڈ کی تشکیل کا بہانہ بناکر اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ اسی طرح، خراب سرکاری مشینری کو بھی فنڈز ہونے کے باوجود ٹھیک نہیں کروایا جا رہا، جس سے سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔
احتجاج کے شرکاء نے انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر کو پندرہ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے تمام 900 ملازمین کو مستقل کرنے کے احکامات جاری نہ ہوئے تو تمام ملازمین کام روک کر مری روڈ پر غیر معینہ مدت تک احتجاجی کیمپ اور دھرنا دیں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو ان کا حق فوری طور پر ادا کیا جائے اور ان کی مستقل ملازمت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے کام کو اطمینان سے جاری رکھ سکیں۔
