راولپنڈی کے لاکھوں کے ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹس غیر فعال

newsdesk
3 Min Read
راولپنڈی کی ایک سے چھیالیس یونین کونسلز میں لاکھوں کے ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹس بند یا غائب، شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

راولپنڈی کی 46 یونین کونسلوں میں کروڑوں کے ٹیوب ویلز اور فلٹریشن پلانٹس بند، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

راولپنڈی: راولپنڈی شہر کی 46 یونین کونسلوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے نصب کیے گئے درجنوں ٹیوب ویلز اور لاکھوں روپے کے فلٹریشن پلانٹس کے خراب اور بند پڑے ہونے، جبکہ ان کی قیمتی مشینری اور دیگر سامان کے غائب ہونے پر شہری ظہیر احمد اعوان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے شکایات سیل میں تحریری درخواست جمع کرا کر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یونین کونسل UC-01 سے UC-46 تک سرکاری فنڈز سے نصب کیے گئے متعدد ٹیوب ویلز اور فلٹریشن پلانٹس اس وقت یا تو مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں یا بند پڑے ہیں، تاہم ان منصوبوں میں استعمال ہونے والی مہنگی مشینری اور دیگر سامان کے بارے میں کوئی ریکارڈ عوام کے سامنے موجود نہیں۔

ظہیر احمد اعوان، چیئرمین سٹیزن ایکشن کمیٹی نے درخواست میں نشاندہی کی ہے کہ ان منصوبوں پر سرکاری خزانے سے بھاری رقوم خرچ کی گئیں، حتیٰ کہ ٹیوب ویلز اور فلٹریشن پلانٹس کے لیے باقاعدہ سرکاری عمارتیں بھی تعمیر کی گئیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج یہ سہولیات غیر فعال پڑی ہیں، کئی مقامات پر مشینری غائب ہے، جبکہ ان عمارتوں کے موجودہ استعمال کے حوالے سے بھی شدید ابہام پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایک ٹیوب ویل پر کروڑوں روپے اور فلٹریشن پلانٹس پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، اس لیے عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ یہ مشینری کہاں منتقل کی گئی، کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور متعلقہ سرکاری عمارتیں اس وقت کن افراد یا اداروں کے زیرِ استعمال ہیں۔

ظہیر احمد اعوان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور پنجاب واسا کو اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا جائے، تمام خراب اور بند ٹیوب ویلز و فلٹریشن پلانٹس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، اور اگر کسی بھی سطح پر کرپشن، غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا انکشاف ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سنگین معاملے پر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے