آٹھ اپریل دو ہزار چھبیس کو راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے تحت میٹرک کا پہلا سالانہ امتحان امن اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن، چیف سیکرٹری زاہد زمان اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایات کے مطابق امتحانی عمل میں شفاف میٹرک امتحانات یقینی بنانے کے لیے سخت انتظامات اختیار کیے گئے ہیں۔کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک نے واضح کیا کہ امتحانی ضوابط پر ہر صورت عمل ہوگا اور ضوابط کے خلاف کسی بھی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی عمل میں صفر رواداری کی پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شفاف میٹرک امتحانات کا معیار برقرار رہے۔بورڈ نے امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے مرکزی کنٹرول روم قائم کیا ہے جو برخط نگرانی کے ذریعے امتحانی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ کنٹرول روم کے ذریعے مراکز کی ویڈیوز اور دیگر مانیٹرنگ ذرائع کا تجزیہ کرتے ہوئے فوری طور پر کارروائی کی صلاحیت موجود ہے تاکہ نقل و ضوابط کی خلاف ورزی کو روکنے میں مدد ملے۔کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے گورنمنٹ ہائی سکول گھوڑا گلی مری کے دورے کے دوران تین امیدواروں کو نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ ان کے خلاف مقدمات درج کر کے ضبط و انضباط کی شاخ کو ارسال کر دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ نقل کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ کنٹرولر نے کہا کہ نقل مافیا کے خلاف موثر نیٹ ورکنگ اور سخت نگرانی کے ذریعے میرٹ اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔بورڈ ترجمان نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ امتحانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ تعلیمی مراحل میں شفافیت برقرار رہے۔ محکمہ نے والدین اور طلبہ سے بھی اپیل کی کہ وہ امتحانی ضابطوں کی پاسداری کریں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تاکہ شفاف میٹرک امتحانات کی روح برقرار رہے۔
