اسلام آباد میں پاکستان قومی کونسل برائے فنون نے فرانسیسی امدادی ادارے کے تعاون سے ۳۰ اور ۳۱ دسمبر ۲۰۲۵ کو پسماندہ اور یتیم بچوں اور ان کی ماؤں کے لیے خصوصی کٹھ پتلی ڈرامے اور پینل مباحثے منعقد کیے، جن میں مجموعی طور پر ۹۰۰ شرکاء نے شرکت کی۔ اس مہم کا مقصد بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا اور والدین کو ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔کٹھ پتلی کو ایک موثر پیغام رسانی کا ذریعہ مانتے ہوئے پروگرام میں بچوں کے حقوق اور والدین کے فرائض، ڈیجیٹل آلات کے محفوظ استعمال، بد سلوکی کی روک تھام اور بچوں کی شکایات بڑے بڑوں سے شیئر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس مہم کا دائرہ کار ان اقدامات تک محدود نہیں تھا بلکہ ذہنی صحت، آن لائن جرائم، صنفی مساوات اور ہر بچے کے لیے تعلیم جیسے موضوعات بھی زیرِ بحث آئے، جو ٢٠٢١ سے جاری پروگرام کا تسلسل تھا۔قومی کٹھ پتلی تھیٹر نے بچوں کے لیے معرکہ آرا کہانیاں پیش کیں جن میں مینا کی کہانی، روشنی کا نیا سویرا اور بابو اور پپو شامل تھیں۔ ان کہانیوں نے لڑکیوں کی تعلیم، بدسلوکی سے تحفظ، اجنبیوں سے محتاط رہنے اور سائبر سیفٹی جیسے اہم پیغامات بچوں کے طرزِ فکر کے مطابق آسان انداز میں پہنچائے۔موزّع پروگرام میں معروف پپٹ میزبان کرن اور علی نے بچوں کے ساتھ براہِ راست گفتگوشامل کی اور سوالات کے ذریعے بچوں کو پیغام سمجھنے میں مدد دی۔ اس انٹرایکٹو انداز نے بچوں کی دلچسپی برقرار رکھی اور والدین میں بھی موضوعات کے بارے میں عملی شعور پیدا کیا، جس سے بچوں کی حفاظت کے تناظر میں گھریلو سطح پر احتیاطی اقدامات کی طرف راغب کیا گیا۔شرکاء کی جانب سے پروگرام کو خراجِ تحسین ملا اور مقامی برادری نے اس اندازِ پیغام رسانی کو موثر قرار دیا۔ انعقاد کاروں نے واضح کیا کہ کٹھ پتلی ایک ایسا علمی اور جذباتی پلیٹ فارم ہے جو نازک موضوعات کو بچوں کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلی کا حصہ بن سکتا ہے۔پاکستان قومی کونسل برائے فنون نے اعلان کیا کہ وہ اسی طرز پر آگاہی مہم جاری رکھے گی اور تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور بچوں و خواتین کے حقوق کے شعبوں میں کام کرنے والی سرکاری و نجی تنظیموں سے تعاون کی دعوت دی گئی تاکہ مل کر ایک محفوظ، باشعور اور ذمہ دار معاشرہ تعمیر کیا جا سکے، جہاں بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہو۔
