پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر میں صحت ایمرجنسی نافذ کر کے تمام نجی ہسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ مریضوں کے لیے 35 فیصد بستروں کا مخصوص کوٹہ مختص کریں اور انہیں علاج کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کریں۔کمیشن نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر کسی ہسپتال نے اس حکم کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد ثاقب عزیز کے دستخط شدہ سرکلر کے مطابق تمام نجی ہسپتالوں میں ایمرجنسی پروٹوکول فوری طور پر نافذ کیے جائیں گے۔ ذیلی منصوبہ بندی کے تحت ہسپتالوں سے کہا گیا ہے کہ ان کے آئی سی یوز، ایچ ڈی یوز اور ایمرجنسی وارڈز چوبیس گھنٹے مکمل طور پر فعال رہیں جبکہ ادویات، آئی وی فلوڈز، خون اور سرجیکل سامان کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ہر ہسپتال کو بڑی میڈیکل اور سرجیکل ایمرجنسی کے لیے اضافی انتظامات رکھنے کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ ریکارڈ اور اہم سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے جنریٹرز اور ایندھن کے ذخائر اور صاف پانی و نکاسی آب کی سہولیات بھی دستیاب رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہسپتالوں کو ریسکیو 1122، ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز، این جی اوز اور ایمبولینس سروسز کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنے اور مریضوں کی منتقلی کو فوری یقینی بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اگر کسی عمارت کو سیلاب سے نقصان پہنچے تو انخلا کا منصوبہ تیار اور فوری علاج کے لیے عارضی مراکز بھی قائم کیے جائیں۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ہرقسم کی خلاف ورزی پر پی ایچ سی ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔
دوسری جانب گجرات میں سیلاب سے متاثرہ علاقے میں مقیم خاندانوں کی جانب سے شکایت سامنے آئی ہے کہ وہاں بنیادی طبی امداد تک موجود نہیں۔ بخار میں مبتلا بچے، جلدی انفیکشن میں مبتلا خواتین اور سانس کی بیماری کے شکار بزرگ افراد طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ایک دیہاتی نے بیان دیا کہ ہسپتالوں کو چاہے جتنی ہدایات مل جائیں، کیمپوں میں نہ ڈاکٹر ہیں، نہ دوائیں اور نہ ہی فرسٹ ایڈ کی سہولت، جبکہ لاہور میں صرف کاغذی کارروائی ہوتی رہتی ہے اور میدان میں لوگ بے یارومددگار ہیں۔
