چکوال میں منعقدہ تقریب میں وزیرِاعلیٰ پنجاب نے میرٹ وظائف اور لیپ ٹاپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے موقع پر جامع تعلیمی اصلاحات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے سال اسی ہزار طلبہ کو وظائف فراہم کیے جائیں گے اور ایک لاکھ اٹھارہ ہزار جدید کارکردگی والے لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو تعلیمی وسائل میسر ہوں۔وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ اس سہولت کا دائرہ وسیع ہوگا اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے طلبہ بھی اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ وظائف اور لیپ ٹاپ کوئی احسان نہیں بلکہ طلبہ کا حق ہیں اور یہ تمام سہولتیں سخت میرٹ کے تحت فراہم کی جائیں گی، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے بھی ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں۔تعلیمی اصلاحات کے تحت پنجاب بھر میں چھ ہزار سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی کی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی جبکہ "اسکولز آف ایکسلنس” اور متعدد مراکزِ برتری بھی قائم کیے جائیں گے۔ چکوال میں پہلا مرکزِ برتری چالیس کنال پر محیط زمین پر تعمیر کیا گیا ہے جس کی لاگت پینسٹھ کروڑ روپے تھی اور یہ مکمل ہو چکا ہے۔حکومت سرکاری اسکولوں کی مجموعی بہتری پر توجہ دے رہی ہے اور جاپان اور چین کے ماڈل کی طرز پر طلبہ کو عنقریب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تعلیم دی جائے گی تاکہ نوجوان جدید تعلیم سے ہم آہنگ ہوں۔ اسی سلسلے میں خوراکی عدم تحفظ علاقوں کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو کھجوریں فراہم کرنے کا بھی پروگرام شروع کیا جائے گا تاکہ غذائی عدم تحفظ کے اثرات کم ہوں۔وہاں برقی بسوں کو متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا اور ہدایت جاری کی گئی کہ جامعات اور کالجوں کے طلبہ کے لئے خصوصی ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے انتظامات کیے جائیں۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ والدین محدود وسائل کے باوجود بچوں کے مستقبل کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، اس لیے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے بچوں کی فلاح و ترقی کو یقینی بنائے۔”پنجاب کے تمام وسائل ہمارے طلبہ کے خوابوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیے جائیں گے”، انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اصلاحات نوجوانوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کریں گی اور لیپ ٹاپ اور وظائف طلبہ کے لئے پرواز کے پروں کی مانند ہیں۔ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور انہوں نے سیاسی مشکلات اور قید کے دوران اپنے والد کو تنہا نہیں چھوڑا۔ ان کا عزم ہے کہ وہ پنجاب کے ہر بچے کا ہاتھ تھامیں اور انہیں محفوظ و روشن مستقبل فراہم کریں۔وزیرِاعلیٰ نے ترقیاتی اقدامات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ آ پنے آٹھ ماہ کے عرصے میں نوے ہزار گھر "اپنا گھر” سکیم کے تحت تعمیر کیے جا رہے ہیں، سردگودا میں جدید کینسر علاج کی سہولیات قائم کی گئی ہیں اور راولپنڈی ڈویژن کے لیے کوایبلیشن مشین فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب پنجاب کی تاریخ کے درجے کے بدترین تھے اور اس بحران کے دوران صوبائی کابینہ اور انتظامیہ نے بحالی میں شب و روز کام کیا، جبکہ دیگر صوبوں کے بعض ردِعمل کا حوالہ بھی دیا گیا۔
