سی سی ڈی پنجاب! نیفے میں پستول، عوام کا اعتماد، تازہ ہوا کا جھونکا

newsdesk
6 Min Read
پنجاب کے جرائم کنٹرول محکمہ نے تیز کارروائیوں سے عوامی اعتماد بحال کیا، سیاسی مداخلت کے بغیر شفاف کارکردگی ضروری ہے

سی سی ڈی پنجاب! نیفے میں پستول، عوام کا اعتماد، تازہ ہوا کا جھونکا

تحریر: ظہیر احمد اعوان

جب قانون کمزور ہو جائے، انصاف تاخیر کا شکار ہو، اور مجرم بے خوف گھومتے نظر آئیں تو عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ادارہ بروقت حرکت میں آئے، فوری کارروائی کرے، اور مظلوم کو انصاف ملنے لگے، تو یہ کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہوتا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے قائم کی گئی سی سی ڈی فورس نے حالیہ دنوں میں وہی کردار ادا کیا ہے، جس نے عوام کے دلوں میں پولیس اور قانون پر اعتماد کی نئی شمع روشن کر دی ہے۔ آج جرائم پیشہ عناصر سخت پریشان اور خوف زدہ ہیں، کیونکہ اب انہیں پتہ ہے کہ قانون جاگ گیا ہے۔
معاشرے کی بقا اور امن کا دار و مدار جزا و سزا کے مؤثر نظام پر ہوتا ہے۔ جہاں قانون کی گرفت کمزور ہو جائے، وہاں جرائم کے پودے تناور درخت بن جاتے ہیں۔ قانون کی بالادستی کے بغیر ریاست کا وقار برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر اشرافیہ اور عام شہری کے لیے قانون کا معیار ایک ہو تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، لیکن جب انصاف صرف طاقتور کے لیے رہ جائے تو کمزور اپنے دفاع پر مجبور ہو جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی توازن بگڑ چکا تھا۔ قانون کی کمزور گرفت، سیاسی مداخلت، اور نظامِ عدل کی سست روی نے عوام کو مایوس کر دیا تھا۔ جرائم پیشہ افراد، منشیات فروش، اشتہاری مجرم، اور جنسی درندے کھلے عام دندناتے پھر رہے تھے۔ خواتین، طالبات اور بچوں کی عزتیں غیر محفوظ تھیں۔ گلی محلوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کے واقعات روز کا معمول بن چکے تھے۔ بدنامی کے خوف سے بیشتر خاندان خاموشی اختیار کرتے رہے، جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ایسے گھٹن زدہ ماحول میں پنجاب پولیس نے ایک جرات مندانہ اور قابلِ تحسین قدم اٹھایا۔ معاشرتی برائیوں کی بیخ کنی کے لیے سی سی ڈی فورس (Crime Control Department) کو تیز رفتار اور مؤثر کارروائیوں کا ٹاسک دیا گیا۔ یہ اقدام پنجاب حکومت اور پولیس قیادت کی جانب سے ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ سی سی ڈی فورس نے قلیل وقت میں ایسی کارروائیاں کیں جنہوں نے عوام میں اعتماد کی فضا بحال کر دی۔سی سی ڈی فورس نے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم، چھیڑ چھاڑ، ہراسانی، منشیات فروشی، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کیں۔ فورس کا تیز ردعمل عوام کے لیے واقعی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہا ہے۔ اب شہریوں کو یقین ہونے لگا ہے کہ قانون پر بھروسہ کیا جائے تو انصاف ممکن ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قانون نے بروقت حرکت کی، معاشرہ خود کو درست سمت میں پایا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب صرف ایک حکومتی حکم سے بدمعاشوں اور ذخیرہ اندوزوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ آج ایک بار پھر وہی مثال سی سی ڈی پنجاب کے ذریعے قائم کی جا رہی ہے۔ عوامی اعتماد کا احیاء کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے، اور یہ فورس اسی سمت میں رواں دواں ہے۔سی سی ڈی پنجاب کو نہ صرف جرائم پیشہ افراد بلکہ ان عناصر کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جو اس فورس کا نام غلط استعمال کر کے بدنامی پھیلا رہے ہیں۔ ایسے افراد کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے تاکہ ادارے کی ساکھ برقرار رہے۔تاہم اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگر سی سی ڈی کی کارکردگی میں تسلسل برقرار رہا اور یہ فورس سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ سے آزاد رہی، تو چند ماہ میں پنجاب میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہو جائے گی۔ پولیس تبھی عوام کا محافظ بن سکتی ہے جب وہ انصاف، میرٹ اور تیز ردعمل کے اصولوں پر قائم ہو۔پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پولیس کو سیاسی اثرات سے مکمل طور پر آزاد کرے، تفتیشی نظام میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائے، فوری ایف آئی آر اور بروقت انصاف کو یقینی بنائے۔ قانون کی پاسداری کے ساتھ تیز رفتار کارروائیاں ہی عوامی اعتماد کو پائیدار بنا سکتی ہیں۔
سی سی ڈی فورس کی حالیہ مہم اس بات کی علامت ہے کہ اگر ریاست سنجیدہ ہو تو مجرم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ اگر یہی رفتار اور عزم برقرار رہا تو یقیناً نیفے میں پستول چلانے کی نوبت نہیں آئے گی، کیونکہ عوام ایک بار پھر قانون کے محافظ بن جائیں گے، قانون شکن نہیں۔آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ امن بندوق سے نہیں، انصاف سے قائم ہوتا ہے۔سی سی ڈی پنجاب نے اس حقیقت کو عملی شکل دے کر دکھایا ہے۔ یہ فورس صرف قانون کا نفاذ نہیں کر رہی، بلکہ عوامی اعتماد کی وہ روشنی جلا رہی ہے جو طویل اندھیروں کے بعد ابھر کر سامنے آئی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے