پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی کی جانب سے منعقدہ اس ثقافتی محفل میں کلاسیکی موسیقی کے انسدادِ زمانہ رنگ دکھائی دئیے۔ پروگرام کا مقصد کلاسیکی موسیقی کے روایتی انداز کو فروغ دینا اور شائقین کے لیے یادگار ثقافتی تجربہ فراہم کرنا بتایا گیا۔اُستاد اعجاز ٹوکل خان، حیدر ٹوکل اور علی رضا ٹوکل نے اپنی دلکش اور پُراثر پیشکش سے سامعین کو محظوظ کیا جبکہ اُستاد حنیف خان کی بانسری کی طرزِ پرفارمنس نے محفل میں خاص رونق پیدا کی اور حاضرین نے ان کے فن کو بھرپور داد دی۔ کلاسیکی موسیقی کے مختلف رنگوں نے محفل کو ایک تاریخی جذباتی انداز دیا اور شرکاء نے بار بار تالیاں بجا کر فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں شائقینِ کلاسیکی موسیقی نے شرکت کی جو عام شہریوں میں کلاسیکی موسیقی کے تئیں بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ پروگرام میں موجود معزز مہمانوں میں پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و ثقافت کی فیملی شازیہ رضوان، ڈائریکٹر جنرل عارف ملک، بینک آف پنجاب کے مینیجر صفوان منیر، معروف خطاط شبیّر ضیا اور یونس رومی، مسلم لیگ ن راولپنڈی شہر کے نائب صدر راجا ناصر احمد، ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی محمد شکور، اور کونسل کے افسران وقار علی، محمد ذیشان اور ارسلان شامل تھے۔ثقافتی حلقوں نے اس محفل کو مقامی فنونِ لطیفہ کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ انتظامیہ نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور پروگرام کی شاندار اور موثر ترتیب کو قابلِ ستائش بتایا۔ اس طرح کے پروگرام کلاسیکی موسیقی کی حفاظت اور عوامی شعور بیدار کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور مقامی سطح پر موسیقی کے روایتی دائرے کو مضبوط کرتے ہیں۔کلاسیکی موسیقی کی یہ محفل پنجاب آرٹس کونسل کی مستقل کوششوں کا نتیجہ قرار پائی، جس میں فن اور روایت کے ملاپ نے ہر عمر کے سامعین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ مستقبل میں بھی ایسے ثقافتی پروگرامز کے ذریعے کلاسیکی موسیقی کو مزید سراہا اور متعارف کرایا جائے گا، جس سے روایتی فنون کو تحفظ اور فروغ ملنے کی امید جیتی رہے گی۔
