محکمہ خصوصی صحت و طبی تعلیم پنجاب میں خواجہ سلمان رفیق کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں چیف منسٹر کے بالغ دل کی سرجری پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پروگرام کے فعال نفاذ پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں ازمات محمود، ڈاکٹر فرقاد عالمگیر، پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی کے سربراہ ڈاکٹر علی رزاق سمیت دیگر حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ ترقیاتی امور کے شعبے سے احمد کمال اور امیرہ بدر بھی موجود تھیں۔وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں صحت کے شعبے میں تاریخی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں اور اسی کے تحت یہ پروگرام شہریوں کو قوتِ خرید کے بغیر معیاری دل کی دیکھ بھال فراہم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کے ذریعے سالانہ تین ارب روپے سے زائد کے مفت علاج کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت تمام مستقل رہائشی افراد قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق مستحق ہوں گے اور سرکاری کارڈیک اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا جبکہ علاج کی گنجائش بڑھانے کے لیے نجی ہسپتال بھی شامل کیے جائیں گے۔ اس عمل میں دل سرجری پروگرام کے ذریعے سرکاری ادارے رجسٹریشن اور بنیادی علاج کے مراکز کا کردار ادا کریں گے اور نجی ہسپتالوں میں ریفرلز صرف کثیر الشعبہ جاتی ٹیم کی سفارش پر ہوں گے۔پروگرام کے تحت بالغ مریضوں کی تمام اقسام کی ہارٹ سرجری کور کی جائیں گی اور فی مریض سالانہ علاج کی حد دس لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے۔ پیچیدہ یا معیاری پیکیج سے تجاوز کرنے والے معاملات کے لیے ایک ریزرو فنڈ بھی قائم کیا جائے گا تاکہ ایک بھی مریض علاج سے محروم نہ رہے۔ازمات محمود نے اجلاس میں کہا کہ شفافیت اور موثر مانیٹرنگ کے لیے الیکٹرانک نگراں نظام یعنی ڈیش بورڈ تیار کیا جائے گا جو پروگرام کی کارکردگی، مالی اخراجات اور مریضوں کی فہرستوں کی مسلسل جانچ ممکن بنائے گا۔ حکام نے اس اقدام کو پنجاب بھر میں جدید کارڈیک علاج تک رسائی بڑھانے اور ہزاروں زندگیاں بچانے والا قرار دیا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سرکاری ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھانے اور نجی شعبے کے ساتھ مربوط طور پر کام کرنے سے انتظار کی فہرست میں نمایاں کمی آئے گی، اور دل کے مریضوں کو بروقت، مفت اور معیاری علاج مہیا کرنے کے لیے متعلقہ محکمے ایک مربوط حکمتِ عملی تیار کریں گے۔
