ادارہ نفسیات کی جانب سے منعقدہ سیمینار نے شرکاء کو عملی اور نظریاتی حوالوں سے اہم معلومات فراہم کیں۔ اس نشست میں قانون اور نفسیات کے تعلقات، معیاری نفسیاتی اندازے اور انصاف کے تقاضوں کے درمیان تعلق پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جس سے شرکاء میں قانونی فہم بڑھانے میں خاطرخواہ مدد ملی۔سیمینار جناب خدایار موہلا، وکیلِ ہائی کورٹ کی زیرِ رہنمائی منعقد ہوا جنہوں نے اخلاقی عمل، نفسیات کے ماہرین کا فوجداری انصاف میں کردار اور نفسیاتی شعبے سے متعلق اہم قانونی دفعات پر مفصل روشنی ڈالی۔ شرکاء کو ماہرِ شواہد کی حیثیت، عدالت میں پیش ہونے والی ذمہ داریوں اور ماہر گواہ کے طور پر روایتی و قانونی حدود واضح طور پر سمجھائے گئے، جس سے قانونی فہم میں نمایاں اضافہ محسوس کیا گیا۔تقریب میں نفسیاتی اندازوں کے عدالتی نتائج پر اثر، شواہد کی تیاری اور پیشکش کے طریقۂ کار پر بھی گفتگو ہوئی۔ ماہرینِ نفسیات اور طالب علموں نے مخصوص کیسز کی مثالوں کے ذریعے سمجھا کہ کس طرح نفسیاتی معائنے فیصلوں میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں اور حقوق و اخلاقیات کا دائرۂ کار کیا ہوتا ہے۔ اس طرزِ تربیت نے شرکاء کو عملی مواقع میں قانونی فہم بروئے کار لانے کا اعتماد دیا۔سیمینار نے نفسیاتی سائنس کو قانونی و انسانی پہلوؤں کے ساتھ مربوط کر کے پیش کیا، جس سے پیشہ ورانہ ترقی اور عدالتی عمل میں شفافیت کے امکانات روشن ہوئے۔ شرکاء نے بیان کیا کہ انہیں ماہرِ گواہ کے کردار، پاکستانی قوانین کے تحت ذمہ داریوں اور عدالتی تقاضوں کے بارے میں واضح رہنمائی ملی، جو آئندہ پیشہ ورانہ فیصلوں میں کارآمد ثابت ہوگی۔شرکاء نے اس تعلیمی نشست کو فکری اعتبار سے بھرپور اور معلوماتی قرار دیا، اور کہا کہ اس قسم کے پروگرام علمی معیار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عملی قانونی فہم میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس اقدام نے نفسیات کے شعبے میں قانونی شعور کی تشکیل میں ایک قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
