وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو میں ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے، قرضوں سے نجات اور دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اتحاد اور یکجہتی کی نسبت پہلے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور ملک میں دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا چکا ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے عناصِر کے درمیان گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے اور دشمنانِ وطن انہیں وسائل فراہم کر رہے ہیں جس کا مقابلہ موثر قومی حکمت عملی سے کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دہشتگردی کو سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے معیاری فوجی، سکیورٹی اور معاشی اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے وسائل بہت وسیع ہیں اور اگر ان کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے تو قرضوں، غربت اور بے روزگاری کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ معرکہِ حق میں افواج نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی جس کے نتیجے میں کامیابی ملی، یہ فتح اللہ تعالیٰ کی نصرت اور افواج کی آمادهٔ کار، تربیت اور ملک کی عوام کی دعاؤں کا مجموعہ تھی۔وزیراعظم نے کمیٹی کے ارکان کو خوش آمدید کہا اور اس کمیٹی سے توقع ظاہر کی کہ وہ اسلام کا اعلیٰ پیغام اور اتحادِ امت کا پیغام عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مذاہب کے پیروکار اپنے طریقے سے عبادت اور تہوار منانے کے برابر حقوق رکھتے ہیں اور اقلیتی برادری کی خدمات اور شراکت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ علماء کرام صوبوں کے دورے کریں گے، مشاورت کے ذریعے فیصلے کیے جائیں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کیا جائے گا۔ مختلف مکتبِ فکر کے علماء اور کمیونٹی رہنماؤں نے حکومت کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا اور امن اور یکجہتی کے پیغام کو فروغ دینے پر زور دیا۔مذہبی اور اقلیتی نمائندوں نے بھی اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ ہندو ہم وطن نے رواداری اور وطن کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا جب کہ مسیحی نمائندے نے امن کا بیانیہ بنانے اور پھیلانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ علماء کرام نے کہا کہ مدارس میں نصابی مواد کے ذریعے درست پیغام دینے اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری اس کمیٹی کی اولیت ہے۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات نے بتایا کہ ملک میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد تینتیس ہزار کے قریب ہے اور ان مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری اور فنی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ اساتذہ کی جدید تربیت بھی جاری ہے اور غلط پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔وزیراعظم نے کمیٹی سے کہا کہ معاملہ فہم، تدبر اور بردباری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قومی اتحاد کے ذریعے، ملکی وسائل کے بہتر استعمال اور مضبوط سکیورٹی اقدامات کے ذریعے دہشتگردی کا مکمل سدِ باب ممکن ہے۔ قومی پیغام امن کی ترویج کو وہ اس عمل کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں جو ملک کو امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گا۔
