پی آر اے پاکستان کی جنرل باڈی اجلاس کی اہم خبریں

newsdesk
5 Min Read

پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) کی جنرل باڈی کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں صدر عثمان خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تنظیمی معاملات، آئینی ترامیم، اور ارکان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اس اجلاس میں پی آر اے پر فنڈز جمع کرنے پر عائد پابندی ختم کرنے سمیت متعدد قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں، جبکہ آزادی صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کو درپیش مشکلات اجاگر کی گئیں۔

اجلاس میں پی آر اے کے صدر عثمان خان اور سیکرٹری نوید اکبر چودھری نے تنظیم کی دو سالہ کارکردگی پر بریفنگ دی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ ارکان کی بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کر کے اپنی تنظیم سے عزم و اعتماد کا اظہار کیا۔ نشست میں پی آر اے کمیٹیوں کی کارکردگی، آزادی صحافت کے دفاع اور احتجاجی حکمت عملی کو سراہا گیا۔

ارکان نے اجلاس میں تنظیم کے فیصلوں اور کارکردگی سے متعلق تلخ سوالات بھی کیے جن کا پی آر اے قیادت نے خندہ پیشانی سے جواب دیا اور آئندہ بھی مثبت روایات کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر عثمان خان نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق اور آزادی کیلئے پی آر اے کی جدوجہد مؤثر اور مضبوط انداز میں جاری رہے گی۔

اجلاس میں سیکرٹری نے مختلف قراردادیں پیش کیں جن میں غزہ کے صحافیوں کے قتل پر اظہار یکجہتی، پیکا ترمیمی ایکٹ پر تحفظات، میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور صحافیوں کی برطرفیوں کی مذمت، اور آئین و پارلیمان کی بالادستی یقینی بنانے کی قرارداد شامل تھی۔ اجلاس میں معزز رکن طارق ورک کے ساتھ پولیس گردی، رفیع بھٹہ و دیگر صحافیوں کو دھمکیاں اور سینئر خواتین صحافیوں کے خلاف پیکا کے تحت بے بنیاد مقدمات کی شدید مذمت کی گئی اور ان مقدمات کے فوری خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پی آر اے جنرل کونسل نے فنڈز کے قیام کے معاملے پر اتفاق رائے سے پابندی ختم کرتے ہوئے ممبران کی فلاح و بہبود کیلئے فنڈز جمع کرنے کی باضابطہ منظوری دی۔ اجلاس میں آئین میں بارا اثر ترامیم بھی کی گئیں جن کے تحت نئی باڈی کے انتخاب کے ایک ماہ میں تمام کمیٹیوں کی تشکیل، سہ ماہی رپورٹ کی پیشکش، اور آئین کے رولز کی فوری تیاری کو یقینی بنایا جائے گا۔ ووٹر لسٹ کی درستگی اور نئے ممبران کی شمولیت کے عمل کو ہر نئی باڈی کی جانب سے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

خزانہ سیکرٹری نے فنانس رپورٹ پیش کی جس پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دو سالہ قیادت کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ پی آر اے کی قومی سطح پر وسعت، ڈیجیٹلائزیشن، خواتین اور ڈسپلن کمیٹی سمیت متعدد شعبہ جات کی سرگرمیوں کی تفصیل بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔

آئندہ الیکشن کے انعقاد کے لیے تین رکنی الیکشن کمیٹی کے قیام کا اختیار پی آر اے کی باڈی کو دیا گیا ہے، تاہم یہ کمیٹی باڈی کے فیصلوں میں ترمیم یا نظرثانی کی مجاز نہیں ہوگی۔ ممبران کے ووٹ کی بحالی کیلئے فیسوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ مقرر کی گئی۔

اجلاس میں شرکاء نے اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، اور متعلقہ ڈائریکٹرز سمیت دونوں سیکرٹریٹس کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کے اختتام پر سینئر صحافیوں نے دو سالہ کارکردگی پر تجاویز اور اپنی حمایت کا اظہار کیا اور پی آر اے کی قیادت کے عزم اور ارکان کی شمولیت پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے