۲۶ نومبر ۲۰۲۵ کو وفاقی وزارتِ صحت و ضوابط و ہم آہنگی نے اسلام آباد میں بعد از ولادت اور اسقاطِ حمل کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کے تفصیلی عملدرآمد منصوبے کے لیے دوسرا مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کا مقصد اسلام آباد دارالحکومت کے لیے عملی حکمتِ عملی تیار کرنا اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے رہنما خطوط وضع کرنا تھا۔ اجلاس میں تکنیکی معاونت ایک بین الاقوامی طبی تنظیم نے فراہم کی جبکہ مالی معاونت اقوامِ متحدہ کے آبادیاتی ادارے نے کی۔اجلاس میں تقریباً ۲۵ ماہرین نے شرکت کی، جن میں اسلام آباد کے صحت کے محکموں کے نمائندے اور شراکت دار ادارے شامل تھے۔ شرکاء نے مفصل گفتگو کے بعد ضروری مداخلتوں کو ترجیح دی تاکہ ولادت کے بعد اور اسقاطِ حمل کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ شرکاء نے سروسز تک رسائی بڑھانے، عملے کی تربیت کو مضبوط کرنے اور خدمات کے معیارات کو یکساں کرنے پر زور دیا۔بعد از ولادت منصوبہ بندی کے حوالے سے اجلاس میں طے پایا کہ علاقائی ضروریات کے مطابق ترجیحات کو عملدرآمد کے منصوبے میں شامل کیا جائے گا اور مربوط اقدامات کے ذریعے شرحِ قبولِ نسخہ میں بہتری لانے کوشش کی جائے گی۔ شرکاء نے مانٹرنگ اور جائزے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا تاکہ منصوبے کے اثرات کو تسلسل کے ساتھ جانچا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل برائے آبادی ڈاکٹر شبانہ سلیم نے وزارت کی اس شعبے میں آئندہ اقدامات پر مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وزارت تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں بعد از ولادت منصوبہ بندی کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کو ترجیح دے گی۔ اجلاس میں حاصل ہونے والی سفارشات کو حتمی تفصیلی عملدرآمد منصوبے میں شامل کیا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر خدمات کی رسائی اور معیار میں بہتری ممکن ہو۔
