پولیو کے خاتمے کے آخری مراحل میں پیشرفت

newsdesk
3 Min Read
آغا خان یونیورسٹی کراچی میں اجلاس میں پاکستان کے پولیو خاتمہ کی پیشرفت، آخری مرحلے کے اقدامات اور محنت کشوں کی حمایت پر زور دیا گیا

آغا خان یونیورسٹی، کراچی میں منعقدہ نشست میں حکومتی نمائندوں، تکنیکی شرکا اور صحت عامہ کے ماہرین نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی جانب جاری پیشرفت پر تفصیلی گفتگو کی۔ شرکا نے اس پیشرفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں اہم ہیں مگر آگے کے مراحل میں مزید مستقل حکمت عملی درکار ہے۔موجودہ صورتحال میں کیسز کی تعداد پہلے کے مقابلے نمایاں طور پر کم ہے تاہم مخصوص علاقوں میں وائرس کا خطرہ برقرار ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ یہ وہ دور ہے جسے عام طور پر پولیو خاتمہ کے آخری مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ہر سطح پر ہم آہنگی اور تیز فیصلہ سازی ضروری ہے۔شرکا نے مستقل نگرانی، بامقصد اشتراک اور کمیونٹی کی شرکت کو کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن مہمات کی مستقل نوعیت، مقامی رہنماؤں کی شمولیت اور تکنیکی معاونت کے بغیر آخری مرحلے میں کامیابی ممکن نہیں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کم کیسز نے خطرے کو ختم نہیں کیا بلکہ مخصوص مقامات پر رابطہ اور نگرانی مزید تیز ہونی چاہیے۔تقریر کرنے والوں نے محنت کشوں کے عزم کو سراہا جو مشکل حالات میں بچوں کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں اور کہا کہ ان افراد کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ حکومت، شراکت دار ادارے اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر ایسے ماحول کو یقینی بنانا ہوگا جہاں ہر بچہ وبائی خطرے سے محفوظ رہ سکے۔اجلاس میں یہ بات بارہا دوہرائی گئی کہ مضبوط حکومتی قیادت، تکنیکی معاونت اور مقامی سطح پر بستہ شمولیت کے بغیر پولیو خاتمہ قابلِ حصول نہیں۔ شرکا نے فرنٹ لائن عملہ کو بااختیار بنانے، وسائل کی بروقت فراہمی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اختتامی مرحلے میں کوئی کمزوری نہ رہے۔مشارکت اور مستقل حکمت عملی کے ذریعے پاکستان اس سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے اور اجلاس میں شریک سبھی نے اتفاق کیا کہ اجتماعی کوششوں سے ہم سب بچوں کے لیے پولیو کے خاتمے کا مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے