اسلام آباد: خیبر پختونخوا محکمہ صحت کی جانب سے حالیہ بھرتیوں کے اعلان میں فارماسسٹ کو ایک بار پھر نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ نوجوان فارماسسٹ ثاقب حسین نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال صوبے میں عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 2 ہزار 439 آسامیوں پر میڈیکل افسران، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی بھرتی کی جائے گی، تاہم اس فہرست میں فارماسسٹ کو شامل نہیں کیا گیا، جس پر طبی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2025 میں پہلی مرتبہ فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث فارماسسٹ صوبے کے صحت کے نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے سے محروم ہیں۔
ثاقب حسین کے مطابق عالمی سطح پر صحت کے نظام میں فارماسسٹ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم خیبر پختونخوا میں انہیں نظر انداز کیے جانے کے باعث ادویات کے غلط استعمال، اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت اور ادویات کے بے قابو استعمال جیسے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں فارماسسٹ کی عدم موجودگی کے باعث ادویات کے مؤثر اور محتاط استعمال، ادویاتی غلطیوں کی نشاندہی اور نگرانی جیسے اہم نظام متاثر ہو رہے ہیں، جس سے مریضوں کی حفاظت اور صحت کی مجموعی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فارماسسٹ ادویات کے محفوظ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور انہیں نظر انداز کرنا خیبر پختونخوا کے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ثاقب حسین نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بھرتیوں میں فارماسسٹ کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے اور فارمیسی سروسز پالیسی پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش صحت کے مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارماسسٹ کو نظر انداز کرنا محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ براہ راست عوامی صحت کے لیے خطرہ ہے، لہٰذا حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ صحت کے نظام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
