راولپنڈی میں صدر ترقی پسند فلاحی تنظیم محمد عامر صدیقی نے پیٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کو عوام کے لیے سخت تشویش کا باعث قرار دیا اور کہا کہ پیٹرولیم قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس سے مہنگائی کے طوفان میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی اور گیس کے مہنگے ہونے کے بعد پیٹرولیم قیمتوں کا اضافہ عام شہریوں کے روز مرہ کے اخراجات کو ناقابل برداشت بنا دے گا۔عامر صدیقی نے نشاندہی کی کہ ملک میں آمدنی کی ناہمواری بڑھ رہی ہے، امیر طبقہ مزید امیر اور غریب مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اِن حالات میں پیٹرولیم قیمتیں بڑھنے سے روزانہ مزدور، دیہاڑی دار مزدور اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے طبقے پر خاص طور پر شدید اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیس، چالیس ہزار روپے انکم والے افراد کو وہی سہولتیں اٹھانی پڑیں جن کا فائدہ لاکھوں کی تنخواہوں والے مفت حاصل کرتے ہیں تو یہ انصاف کہاں رہ گیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اشرافیہ اور بیوروکریسی کی غیر ضروری مراعات واپس لے تاکہ مساوی نظام قائم ہو سکے اور مفت سہولیات کا خاتمہ عمل میں آئے۔ پیٹرولیم قیمتیں کنٹرول کرنے کے بجائے صرف مشکل فیصلے عوام پر لاگو کرنا ملک کے محروم طبقات کے لیے ظلم ہے، یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہمیشہ قربانی غریب کے حصے میں کیوں آتی ہے۔صدِر ترقی پسند فلاحی تنظیم نے حکومت سے خاص اپیل یہ کی کہ پیٹرولیم پر براہِ راست ریلیف پیکج متعارف کروایا جائے تاکہ موٹر سائیکل سوار، روزانہ اجرتی مزدور اور کمزور خاندان اپنی گذر بسر کر سکیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ریلیف براہِ راست مستحقین تک پہنچانے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ نقد یا سبسڈی کی صورت میں فوری مدد ممکن ہو۔اقتصادی حکمت عملی کے بارے میں عامر صدیقی نے کہا کہ ترقی کے لیے قرضوں پر انحصار کم کر کے سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دینا ہوگا، امپورٹس پر انحصار کم اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دی جائے تو ملکی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب تک معاشی نظام میں شفافیت اور مساوات نہیں آئے گی تب تک پیٹرولیم قیمتیں اور دیگر ضروری اشیائے زندگی عوام کے لیے بوجھ بنی رہیں گی۔انہوں نے حکومت سے زور دیا کہ پیٹرولیم قیمتیں فوری طور پر عوام کی مشکلات کو مدِ نظر رکھ کر منظم کی جائیں اور مراعات یافتہ طبقے سے ترجیحی سہولیات واپس لے کر نافذ کرنے سے سماجی انصاف کی راہ ہموار ہوگی، تاکہ عام شہری ملکی ترقی میں اپنی شراکت برقرار رکھتے ہوئے زندگی کی بنیادی ضروریات بآسانی پورا کر سکیں۔
