پشاور میں ثالثی ٹریننگ سے امن و استحکام میں اضافہ ہوگا

newsdesk
3 Min Read
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور کی ثالثی ٹریننگ عدالتی بوجھ کم کر کے سماجی امن اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مستحکم کرے گی

پشاور میں منعقدہ دو روزہ تربیتی پروگرام کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ثالثی ٹریننگ نہ صرف عدالتوں پر بوجھ کم کرے گی بلکہ صوبے میں پائیدار امن، سماجی ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بھی بنے گی۔ یہ تربیتی نشست نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے عوامی انتظامیہ پشاور میں منعقد ہوئی جسے بین الاقوامی ثالثی و مصالحت مرکز نے وزارتِ قانون و انصاف کے تحت منعقد کیا تھا۔اس پروگرام میں جنوبی خیبر پختونخوا کے سرکاری افسران، وکلا، کاروباری برادری اور تعلیمی ماہرین نے حصہ لیا۔ گورنر نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور ادارے کے لان میں ایک پودا بھی لگایا، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول نے گورنر کو تربیتی کورس کی خاکہ وار معلومات فراہم کیں۔ پروگرام میں ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) عثمان گل بھی موجود تھے۔گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں صدیوں سے چرچاہ یا جرگہ نظام باہمی احترام اور اجتماعی حکمت کے ذریعے تنازعات حل کرتا آیا ہے اور جدید بنیادوں پر مبنی ثالثی اس روایت کو آئینی تحفظات، غیرجانبداری اور رازداری کے اصولوں کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ ان کے بقول ثالثی اور مصالحت روایات کے متبادل نہیں بلکہ جدید عدالتی معیارات کے حوالے سے ہم آہنگی ہیں۔انہوں نے بین الاقوامی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تنازعات نسبتاً کم وقت میں ثالثی کے ذریعے نمٹائے جا رہے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی ماڈل کو فروغ دینا ہوگا۔ گورنر نے کہا کہ متبادل تنازعہ حل ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، جن میں بعض مقدمات میں مقدمے سے قبل ثالثی کو لازمی بنانے کی تجویز شامل ہے، دوراندیشی پر مبنی اقدام ہے کیونکہ اس سے فریقین باہمی رضامندی سے معاملات نمٹا سکیں گے اور عدالتی کارروائیوں کی طوالت کم ہوگی۔گورنر نے خاص طور پر نئی ضم ہونے والی ضلعی حدود کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ یہ علاقے تاریخی عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں جہاں ثالثی ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتی ہے تاکہ آئینی نظام کو مستحکم رکھا جا سکے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔ انہوں نے صوبائی سطح پر ثالثی کے فروغ کو امن و سکون کے لیے ناگزیر قرار دیا۔شرکاء نے تربیتی منصوبے کی اہمیت اور عملی افادیت پر تبادلۂ خیال کیا اور کہا گیا کہ میدانِ عمل میں ثالثی ٹریننگ کے ذریعے تنازعہ حل کے جدید طریقے روایتی نظام کے ساتھ میل ملاپ کر کے بہتر نتیجے فراہم کریں گے۔ گورنر کے مطابق یہ عمل عدالتی سہولت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر اعتماد اور مفاہمت کو فروغ دے گا، جس سے طویل مدتی استحکام ممکن ہوگا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے