پشاور سے تعلق رکھنے والے باکسر عبیداللہ خان نے خیبرپختونخوا زیرِ اکیس گیمز کے باکسنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ مقابلوں کے دوران ان کی ٹکنیک، تیزی اور رِنگ میں ہوشیاری نے شائقین اور حکام کی توجہ حاصل کی۔رکنِ کوچنگ اسٹاف شاداللہ کی مستقل محنت اور جدید تربیتی طریقہ کار کو عبیداللہ خان کی کامیابی کا بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ شاداللہ نے عبیداللہ کی تکنیکی مہارتوں پر توجہ دی اور ہر مرحلے پر ذہنی تیاری میں بھی انہیں مضبوط کیا، جس کا اثر مقابلے کے دوران واضح دکھائی دیا۔عبیداللہ خان نے جیت کے بعد کہا کہ انشاءاللہ وہ صوبائی اور قومی سطح پر مزید تمغے جیت کر خیبرپختونخوا اور ملک کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کوچ شاداللہ کی رہنمائی کو کامیابی میں کلیدی قرار دیا اور کہا کہ یہ محنت کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔خیبرپختونخوا باکسنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خضراللہ کو بھی عبیداللہ خان نے خراجِ تحسین پیش کیا۔ عبیداللہ کے بقول خضراللہ کی کاوشوں نے صوبے میں باکسنگ کو نئی جان بخشی اور نوجوان باکسرز میں جذبہ پیدا کیا ہے۔عبیداللہ خان نے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے عزم کا اظہار کیا ہے اور اپنی فٹنس، طاقت اور مجموعی لڑائی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کوچ شاداللہ کے زیرِ نگرانی تربیت میں شدت لائی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے نوجوان اور محنتی کوچز مل کر مناسب ادارتی و حکومتی حمایت کے ساتھ مستقبل میں ملک کے لیے بڑے اعزازات حاصل کر سکتے ہیں۔یہ فتح نوجوان کھلاڑیوں کے لیے پیغام ہے کہ منظم رہنمائی، مستقل محنت اور پختہ ارادے سے نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور عبیداللہ خان اسی سمت ایک مثال بنتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
