پی سی بی اور بیکن ہاؤس تین سالہ تعلیمی اسکالرشپ

newsdesk
3 Min Read
پی سی بی اور بیکن ہاؤس نے ۱۲۰ نوجوان کرکٹرز کے لیے تین سالہ مفت تعلیمی اسکالرشپ معاہدہ طے کیا، سہولتیں ۳۱ جولائی ۲۰۲۵ سے دستیاب ہوں گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کے درمیان ایک تین سالہ الحاقی معاہدہ دستخط ہوا جس کا مقصد منتخب نوجوان کھلاڑیوں کو مکمل مفت تعلیمی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مجموعی طور پر ایک سو بیس کھلاڑیوں کو تعلیمی معاونت دی جائے گی جو زیرِ پندرہ، زیرِ سترہ اور زیرِ انیس کے علاوہ دیگر متعلقہ زمروں سے بھی منتخب ہوں گے اور یہ سہولت ملک کے سولہ علاقوں میں دستیاب ہوگی۔ اسکالرشپ کا دورانیہ ۳۱ جولائی ۲۰۲۵ سے ۳۱ جولائی ۲۰۲۸ تک طے پایا ہے اور پی سی بی نے پہلے ہی ان ایک سو بیس مستحق کھلاڑیوں کی فہرست پیش کر دی ہے۔دستخطی تقریب غدافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوئی جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید، وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز عبداللہ خرم نیازی اور ایس جی ایم ڈومیسٹک جنید ضیاء موجود تھے۔ تقریب میں پی سی بی کی جانب سے اس اقدام کو نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔بیکن ہاؤس کی نمائندگی قاسم کسوری، علی احمد خان، فیصل نثار، سیدہ ارم نقوی اور تانیا ملک نے کی اور انہوں نے اس تعلیمی شراکت داری کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیکن ہاؤس کی شمولیت سے امیدواروں کو نصاب، داخلہ اور تعلیمی نگرانی میں مکمل تعاون ملے گا تاکہ کرکٹ کی تربیت کے ساتھ تعلیم میں بھی تسلسل برقرار رہے۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بیکن ہاؤس کی کوششوں کی ستائش کی اور کہا کہ یہ شراکت نوجوان کھلاڑیوں کو تعلیمی توجہ دینے کے مواقع فراہم کرے گی اور ان کے روشن مستقبل کی راہیں ہموار کرے گی۔ ان کے بقول، یہ مشترکہ اقدام طویل المدت مثبت نتائج دے گا اور پی سی بی اسکالرشپ منصوبوں کو مزید وسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ زیادہ تر کھلاڑی مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔اس تعلیمی اسکالرشپ سے نوجوان کرکٹرز کو نہ صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ان کی تعلیمی ترقی بھی ممکن ہوگی، جو ملکی کرکٹ کے دیرپا مفاد میں قرار پائے گی۔ پی سی بی اور بیکن ہاؤس کا یہ مشترکہ اقدام مستقبل کے اسٹار کھلاڑیوں کی تربیت اور تعلیمی معیار دونوں کو برقرار رکھنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے