پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا اہم اجلاس

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا اجلاس، خودارادیت، جامعاتی اصلاحات اور نصاب میں کشمیری مطالعات شامل کرنے پر اتفاق

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا ایک ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر و چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔رانا محمد قاسم نون نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس کا منصفانہ اور پائیدار حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے جو عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے۔چیئرمین نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے نوجوان، دانشور اور میڈیا ایک مشترکہ قومی بیانیہ مرتب کریں۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی جامعات میں تحقیق، معیاری تعلیم اور ایکسیلنس کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ قومی نصاب میں کشمیر اسٹڈیز، کشمیری ثقافت اور تحریک آزادیٔ جموں و کشمیر کے موضوعات شامل کرنے چاہئیں۔ اسی گفتگو میں آزاد کشمیر میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی جامعات معیاری تعلیم کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں اور آزاد کشمیر کی مجموعی ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی۔قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر و اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہا ہے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض افواج کی کاروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نصابِ تعلیم میں کشمیری زبان، ثقافت اور تہذیب کی شمولیت اور آزاد کشمیر کی جامعات کو مالی استحکام فراہم کرنے کے لیے وفاقی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کشمیر پاکستان کی قومی اور خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے نوجوانوں میں مسئلہ کشمیر سے متعلق شعور بیدار کرنا لازم ہے۔ اس موقع پر پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے دیگر اراکین اور متعلقہ حکام نے جامعاتی اصلاحات، تعلیمی رابطہ کاری اور نصابی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔اجلاس میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، قائم مقام صدر و اسپیکر چوہدری لطیف اکبر، وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی، سینیٹر پرویز رشید اور ضمیر حسین کے علاوہ اراکین قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، ابرار احمد، چوہدری نصیر احمد عباس، اظہر قیوم نہرا، اسد عالم نیازی اور آزاد جموں و کشمیر کی جامعات کے وائس چانسلرز و متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی آئندہ لائحہ عمل میں نوجوانوں کی شمولیت، علمی و تعلیمی تعاون اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے مؤثر تاثر کے لیے مزید حکمتِ عملیاں وضع کرے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے