پارلیمنٹ ہاؤس میں ارتھ آور کے تحت روشنیوں کی بندش

newsdesk
3 Min Read
قومی اسمبلی نے عالمی ارتھ آور کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کی غیر ضروری روشنیوں کو آج رات ایک گھنٹے کے لیے بند کرنے کی ہدایت جاری کی۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی ہدایت پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے رہنمائی میں پارلیمنٹ ہاؤس کی غیر ضروری روشنیوں کو عالمی ارتھ آور مہم کے تحت بند کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کے مؤثر استعمال کے عزم کا عملی اظہار ہے۔اسپیکر نے بالخصوص کہا کہ ارتھ آور محض علامتی عمل نہیں بلکہ زمین کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید ہے۔ اس موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کی روشنیوں کو آج رات آٹھ بجے تیس منٹ سے نو بجے تیس منٹ تک بند رکھا جائے گا تاکہ توانائی کے تحفظ کے پیغام کو تقویت ملے۔سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کے تحفظ کے اقدامات کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے اور روزمرہ معمولات میں چھوٹے مگر مقصدی اقدامات بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی چھوٹی تبدیلیاں معاشرتی سطح پر پائیدار اثرات دے سکتی ہیں۔اسپیکر نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک کو درپیش چیلنجوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بروقت پالیسی سازی اور مؤثر عملدرآمد کے بغیر مستقبل محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ ہوا کی آلودگی میں کمی اور مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور یہی اقدامات آئندہ نسلوں کے لیے مستحکم مستقبل کی ضمانت بنیں گے۔اس موقع پر اسپیکر نے قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور ماحول دوست رویوں کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ ماحولیاتی تحفظ معاشرے کے ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم ارتھ آور کو صرف علامت نہ سمجھے بلکہ مستقل ذمہ داری کے طور پر اپنائے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی بچانے کے قانونی اور انتظامی اقدامات نافذ ہیں اور انتظامیہ سے توقع کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مکمل تعاون کرے گی۔ اس کے علاوہ اسپیکر نے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی ماحولیاتی آگاہی مہم کو سراہا اور کہا کہ ایسے تعاون سے شعور بیدار ہوگا اور عملی اقدامات میں آسانی آئے گی۔اسپیکر نے زور دیا کہ ماحول دوست طرزِ عمل کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ ایک سبز، صاف اور خوشحال پاکستان کا خواب حقیقت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ جامع ماحولیاتی پالیسی اور اس پر عملدرآمد سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے اور اس مقصد کے لیے ہر فرد کا کردار اہم ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے