پارلیمانی فورم اور پائیدار تنظیم بچوں کے حقوق میں شراکت

newsdesk
3 Min Read
قومی اسمبلی کے پارلیمانی فورم اور پائیدار سماجی ترقی تنظیم نے اسلام آباد میں بچوں کے حقوق کے فروغ کے لیے معاہدہ کیا، شواہد پر مبنی قانون سازی کو تقویت دی جائے گی۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے پارلیمانی کیوکاس برائے بچوں کے حقوق اور پائیدار سماجی ترقی تنظیم کے درمیان معاہدہ عمل میں آیا جس کا مقصد بچوں کے حقوق کی مضبوط قانونی و پالیسی بنیاد تیار کرنا ہے۔ یہ معاہدہ اتوار کو منعقدہ تقریب میں رکنِ اسمبلی و کیوکاس کی سربراہ ڈاکٹر نکھت شکیل خان کی قیادت میں طے پایا اور بچوں کے حقوق کو قانون سازی اور پارلیمانی نگہداشت میں ترجیح دینے کا عہد دہرا گیا۔معاہدے پر قومی اسمبلی کے قائم مقام سیکرٹری سعید احمد کی جانب سے دستخط کیے گئے جبکہ پائیدار سماجی ترقی تنظیم کی نمائندگی سید کوثر عباس نے کی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے اقتصادی امور زیب جعفر، پارلیمانی سیکرٹری برائے آبی وسائل رانا انصار، رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صبیعہ اسلم سومرو، پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و قومی ثقافت فرح ناز اکبر، پروگرام ڈائریکٹر مریم جواد کے علاوہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے افسران بھی شریک تھے۔دونوں فریقین نے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کی ذمہ داریوں کی پاسداری اور بچوں کے مفاد کو تمام قانونی اور پالیسی اقدامات کا اولین معیار رکھنے پر زور دیا۔ معاہدے کا مرکزی مقصد شواہد پر مبنی قانون سازی کو فروغ دینا اور پارلیمانی نگرانی کو فعال بنانا ہے تاکہ بچوں کے حقوق کے معاملات مثلاً بچوں کی اسمگلنگ، نابالغوں کا انصاف، بچوں کی مزدوری، قبل از وقت شادی اور بچوں پر تشدد کے واقعات کے خلاف مضبوط کارروائی ممکن ہو۔معاہدے کے تحت مشترکہ طور پر بجٹ تجزیے برائے بچوں کے حقوق تیار کیے جائیں گے اور متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو شواہد کی بنیاد پر سفارشات پیش کی جائیں گی، جبکہ متعلقہ وزارتوں اور قومی اداروں کے ساتھ رابطوں کو فروغ دے کر نفاذی امور میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس تعاون کا مقصد پالیسی سازی میں شواہد اور ڈیٹا کے استعمال کو یقینی بنانا ہے تاکہ قانونیں عملی طور پر بچوں کے تحفظ کو بہتر بنا سکیں۔رکنی اسمبلی اراکین اور شرکاء نے بچوں کی اسمگلنگ، بچوں پر تشدد اور استحصال کے حوالے سے قابلِ اعتماد اور بروقت ڈیٹا کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ موثر قانون سازی اور معنی خیز پارلیمانی نگہداشت کے لیے محققین اور اداروں کے ساتھ مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔ قائم مقام سیکرٹری نے بھی تحقیق پر مبنی قانون سازی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقی رپورٹس اور تجزیاتی ڈیٹا کو قانون سازی میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا تاکہ بچوں کے فلاح و تحفظ کے مؤثر اقدامات ممکن ہوں۔فریقین نے آئندہ مدت میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں، ڈیٹا جنریشن اور پالیسی سفارشات کی مکمل منصوبہ بندی کرنے پر اتفاق کیا، جس سے امید کی جاتی ہے کہ ملک میں بچوں کے حقوق کی حکومتی اور پارلیمانی ترجیحات میں واضح بہتری آئے گی اور تحفظ کے مؤثر نظام کو مضبوطی ملے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے