فلسطینی مظالم انسانیت کے ضمیر کا امتحان

newsdesk
3 Min Read
جنیوا میں اسپیکر قومی اسمبلی نے فلسطینی مظالم، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، موسمیاتی بحران اور علاقائی امن پر پاکستان کے مؤقف کی تفصیل پیش کی

جنیوا میں منعقدہ ایک سو اکتوانی انٹر پیرلیمنٹری یونین کانفرنس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے واضح اور اصولی موقف کا اظہار کیا۔ اسپیکر نے کہا کہ فلسطینی مظالم نہ صرف ایک علاقائی مسئلہ بلکہ پورے انسانیت کے ضمیر کا ازمائش ہیں اور عالمی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی پائیدار حل ممکن ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ہنگامی بنیادوں پر انسانی قوانین کو مضبوط بنایا جائے اور تنازعات کے متاثرہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ اسپیکر نے غزہ میں جاری صورتحال پر خوف و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وقفۂ جنگ کی پیش رفت کو مثبت قدم قرار دیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کے مستقل حمایتی موقف کو دوہرایا۔خطے کے دیگر مسائل پر گفتگو میں اسپیکر نے بھارتی غیرقانونی زیرِقبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزریوں کی مذمت کی اور وہاں کی آبادیاتی تبدیلیاں اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جارحیت کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کیا مگر ملکی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کا حق برقرار رکھتا ہے۔اسپیکر نے انڈس واٹرز معاہدے کی بھارت کی یک طرفہ معطلی کو خطے میں استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے افغانستان کے بعض حصوں سے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بعض گروہوں، جنہیں انہوں نے فتنہ الخوارج قرار دیا، افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان مخالف کارروائیاں کرتے ہیں، اور ان کے خلاف پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیاں ملکی شہریوں اور سرحدی تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک ابھرتا ہوا انسانی بحران قرار دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں کم حصہ ہونے کے باوجود شدید قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے غریب و کمزور قوموں کے لیے منصفانہ اور مساوی مالی امداد لازمی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی یکجہتی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔پاکستان کے امن و مذاکراتی رویے کی عکاسی کرتے ہوئے اسپیکر نے بتایا کہ پاکستان کی مجوزہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۷۸۸ اس عزم کی علامت ہے جس کا مقصد بین الاقوامی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے سفارت کاری، مکالمہ اور پارلیمانی تعاون کو عالمی ہم آہنگی کے مؤثر ذرائع قرار دیا۔ پاکستان کی پارلیمانی وفد میں اعظم نظیر تارڑ، بارسٹر عقیل ملک، چوہدری شہباز بابر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، منیبہ اقبال اور اعجاز حسین جکھرانی شامل تھے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے