بیرونِ ملک 21 ہزار پاکستانی قید، جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا "ڈیٹینڈ ابروڈ” رجسٹری کا اجرا

newsdesk
4 Min Read
جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے کینیڈا کی معاونت سے پردیسی قیدی رجسٹری شروع کی، جو قونصلری حقوق اور قانونی وسائل فراہم کرتی ہے۔

اسلام آباد: جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے کینیڈا کے ہائی کمیشن کے تعاون اور پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے اشتراک سے "ڈیٹینڈ ابروڈ” کے نام سے ایک علاقائی رجسٹری کا اجرا کر دیا ہے، جس میں ہند و بحرالکاہل خطے میں قید غیر ملکی شہریوں کے حقوق اور قانونی تحفظات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

یہ پلیٹ فارم اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران متعارف کرایا گیا، جس میں مختلف سفارتی مشنز کے نمائندگان، قونصلر حکام، حکومتی وزارتوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، قانونی ماہرین اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جس کے بعد "ڈیٹینڈ ابروڈ” رجسٹری کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا۔ اس موقع پر رکنِ قومی اسمبلی الیاس چوہدری نے بھی خطاب کیا۔

بعد ازاں ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی جس میں سول سوسائٹی، حکومتی نمائندگان اور سفیروں، بشمول پرتگال کے سفیر، نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ بہتر قانونی وسائل اور سفارتی، قانونی و سماجی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے زیرِ حراست غیر ملکی شہریوں کو درپیش خطرات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔

شرکا میں وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے سیکرٹری ندیم اسلم، قومی اسمبلی و سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیوں کے اراکین، سینیٹر ذیشان خانزادہ، متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام، یورپی یونین کے وفد کی نمائندہ اونا کیلی، آئرلینڈ کے سفارتخانے کے قونصلر سربراہ بین ہیڈن اور دیگر شامل تھے۔

پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا کی حکومت اس منفرد رجسٹری کے اجرا میں تعاون پر خوش ہے، جو کینیڈین، پاکستانی اور دیگر ممالک کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگی۔

"ڈیٹینڈ ابروڈ” پلیٹ فارم میں مختلف ممالک کے قانونی نظاموں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے، جس میں سزائے موت کے قوانین، تشدد کے خلاف تحفظ، قونصلر حقوق، منصفانہ ٹرائل کی ضمانت اور قیدیوں کی واپسی کے طریقہ کار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں مقامی وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری معاونت حاصل کی جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 تک پاکستان کی جیلوں میں کم از کم 1,107 غیر ملکی شہری قید تھے، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے،  زیادہ تر قیدی فارنرز ایکٹ 1946 اور انسدادِ منشیات قوانین کے تحت قید ہیں، جبکہ بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد انٹری کنٹرول قوانین کے تحت زیرِ حراست ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے نمائندہ حارث ذکی نے کہا کہ بیرونِ ملک قید غیر ملکی شہری اکثر اجنبی قانونی نظام، زبان کی رکاوٹوں اور محدود قانونی و قونصلر معاونت کا سامنا کرتے ہیں، اور یہ پلیٹ فارم ان مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

تقریب کے اختتام پر سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ اس پروگرام سے بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زبان کی رکاوٹوں اور بروقت قونصلر سہولت نہ ملنے کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے