پاکستانی محققین عالمی دو فیصد میں شمولیت

newsdesk
4 Min Read
ایچ ای سی نے اسلام آباد میں ۱۱۸ جامعاتی محققین کو اعزاز دیا، سٹینفورڈ کی فہرست میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں ایچ ای سی نے اُن محققین کو خراجِ تحسین پیش کیا جو عالمی سطح پر ‘دو فیصد سائنسدان’ کی درجہ بندی میں شامل ہوئے ہیں۔ تقریب میں وفاقی جامعات اور نزدیکی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ایک سو اٹھارہ محققین کو خصوصی سرٹیفیکیٹ دیے گئے اور انہیں سراہا گیا۔میزبان ادارے نے اعلان کیا کہ اسی کامیابی کو اجاگر کرنے کے لیے صوبہ وار پروگرامز اور ایک ریسرچ نمائش کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ ماحصلِ تحقیق کو عوام اور صنعت کے سامنے لایا جا سکے۔ ایونٹ میں شریک وائس چانسلرز، ڈینز اور دیگر تعلیمی سینئرز نے محققین کی کاوشوں کی تعریف کی۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے شرکاء میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے اور اس موقع پر زور دیا کہ جامعات علم کے پیدا کرنے اور منتقل کرنے کے اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں نوجوان نسل کی رہنمائی کے ذریعے علمی میراث منتقل کرنی چاہیے۔ڈاکٹر ضیاء الحق نے اس اعزاز کو پاکستانی محققین کی محنت اور قابلیت کا آئینہ قرار دیا اور کہا کہ عالمی سطح پر شناخت، جامعاتی اور قومی اداروں کی معاونت کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول معروف محققین اپنی مہارت کو دوسرے علمی حلقوں تک منتقل کریں تاکہ تحقیقی برادری مضبوط ہو۔ڈاکٹر انجینئر محمد علی ناصر نے ایچ ای سی کے تحقیقی و جدت کے پروگرامز کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ نیشنل ریسرچ پروگرام برائے جامعات، ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ، تحقیقی گرانٹس اور اشتراکی منصوبے محققین کی صلاحیت بڑھانے کے لیے فعال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ای سی ایسی معاونت جاری رکھے گا جس سے تحقیق کے نتائج عملی حل اور ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوں۔تقریب میں بتایا گیا کہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی سال ۲۰۲۵ کی فہرست میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی محققین شامل ہوئے ہیں، جو ملک کی تحقیقی صلاحیت میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کامیابی نے اس موضوع کو اجاگر کیا کہ معیاری تحقیق کا اصل مقصد سماجی اور معاشی شعبوں میں براہِ راست اثرات مرتب کرنا ہے۔ایونٹ کے شرکاء نے سائنسی دیانت، تجسس اور بین الشعبہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ادارہ جاتی وسائل کا اشتراک اور شعبہ جاتی تعاون قومی چیلنجز کے حل کے لیے ضروری ہے۔ محققین سے کہا گیا کہ اپنی تحقیق صنعت کی ضروریات کے ساتھ ملائیں اور ہر تحقیق کے عملی اثر پر توجہ دیں کیونکہ ایک معیاری تحقیقی مقالہ جو حقیقی تبدیلی لائے، سینکڑوں نا کارآمد مطبوعات سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔شرکاء نے یہ بھی کہا کہ معروف محققین کو نوجوان سائنسدانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ تجربات اور علمی مہارت آئندہ نسل تک منتقل ہوں اور ملک کی تحقیقی ساکھ بہتر ہو۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف دو فیصد سائنسدان کی نمائندگی میں اضافہ ممکن ہے بلکہ پاکستان عالمی علمی منظرنامے میں بھی مستحکم مقام حاصل کر سکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے