2026 سے پاکستان کے چار اسپتالوں میں بچوں کے کینسر کی مفت ادویات کی فراہمی شروع ہوگی
اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے کینسر کے علاج کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چار سرکاری و نجی اسپتال 2026 کے اختتام سے قبل مفت اور معیاری ادویات کی فراہمی شروع کرنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ یہ اقدام عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور حکومتِ پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کو معیاری علاج تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
یہ ادویات گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چائلڈ ہڈ کینسر میڈیسنز کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان میں ہر سال بچوں میں کینسر کے 8 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ محدود علاج اور ادویات تک رسائی کے باعث بقا کی شرح تقریباً 30 فیصد ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے ماہرین نے فروری 2026 میں اسلام آباد کے نوری ہسپتال سمیت مختلف مراکز کا دورہ کیا اور تیاریوں کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کیں۔ اس سے قبل اگست 2025 میں بھی ماہرین کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ مزید سات اسپتال 2027 تک تیاری مکمل کر کے اس پروگرام میں شامل ہوں گے۔
29 جولائی 2025 کو ڈبلیو ایچ او اور وفاقی وزارتِ صحت کے درمیان پاکستان کی اس عالمی پلیٹ فارم میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا۔ پاکستان مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں اس پروگرام میں شامل ہونے والا دوسرا ملک ہے۔ یہ پلیٹ فارم 2021 میں ڈبلیو ایچ او اور سینٹ جوڈ کے اشتراک سے قائم کیا گیا، جبکہ یونیسف ادویات کی خریداری اور ترسیل کی ذمہ دار ہوگی۔
اس اقدام کا مقصد 2030 تک پاکستان میں بچوں کے کینسر کی بقا کی شرح کو 30 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک پہنچانا ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، جن میں سے 90 فیصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں، جہاں بقا کی شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے کہا کہ ہر بچے کو، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا اس کا معاشی پس منظر کچھ بھی ہو، معیاری علاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ کوئی بھی بچہ علاج کی کمی کے باعث جان سے ہاتھ نہ دھوئے۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کے تحت نہ صرف ادویات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ وزارتِ صحت اور صوبائی حکام کو تکنیکی معاونت اور نظامِ صحت کی بہتری کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ بچوں کے کینسر کے علاج کے نظام کو مجموعی طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔
