چین میں پاکستانی اساتذہ کی تربیت مکمل

newsdesk
3 Min Read
ٹیانجن میں چینی تربیت کے دو ہفتے مکمل، چوبیس پاکستانی اساتذہ نے مصنوعی ذہانت اور ذہین صنعتکاری سمیت جدید تعلیمی طریقے سیکھے

ٹیانجن خارجہ مطالعہ یونیورسٹی میں منعقدہ دو ہفتے کے تربیتی پروگرام میں چوبیس پاکستانی یونیورسٹی اساتذہ نے چینی تربیت حاصل کر کے وطن واپسی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ تربیت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کردہ یونیورسٹی کنسورشیم کے تحت ہوئی جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔تقریب افتتاح میں ٹیانجن خارجہ مطالعہ یونیورسٹی کی صدر محترمہ لی ینگ یِنگ، نائب صدر جناب ژو پینگ شیاو اور کمیشن برائے اعلی تعلیم پاکستان کے شعبہ عالمی رابطہ کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ عائشہ اکرام نے شرکت کی اور پروگرام کی اہمیت پر زور دیا۔ افتتاحی خطاب میں اس تربیت کے تعلیمی اور ثقافتی فوائد کو نمایاں کیا گیا اور شرکاء کو عملی استفادے کی ترغیب دی گئی۔محترمہ لی ینگ یِنگ نے بتایا کہ اس دو ہفتے کی چینی تربیت نے شرکاء کو مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ تعلیم، کاریگرانہ جذبے کی تشہیر اور ذہین صنعتکاری کے تجربات سے آگاہ کیا، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تربیت شرکاء کو تعلیمی ڈیجیٹل تبدیلی کے علمبردار بنائے گی اور چین و پاکستان کے عوامی روابط کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے یہ پروگرام باہمی سفارتی تعلقات کی تقریبات کا حصہ بھی قرار دیا۔کمیشن برائے اعلی تعلیم کی نمائندہ محترمہ عائشہ اکرام نے پروگرام کی افادیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کمیشن کا مقصد اعلیٰ تعلیم کو قومی ترقی میں مؤثر بنانا، شمولیت اور رسائی کو یقینی بنانا، علمی معیار کی بہتری اور جامعات کی تحقیقی اور سماجی مطابقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے اندر دوسری تربیت کے انعقاد سے تعلیمی تعاون کی قوت اور اعتماد کا پتہ چلتا ہے۔تقریب میں چین کی اعلیٰ تعلیمی تنظیم کی نائب سیکریٹری جنرل محترمہ گو ژیاو جیے نے بھی شرکت کرتے ہوئے چین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات اور یونیورسٹی کنسورشیم کے ذریعے مشترکہ تحقیق، استعداد میں اضافہ اور ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ کے کردار کو اجاگر کیا۔ پروگرام میں ایسے موضوعات شامل تھے جن میں مصنوعی ذہانت، بین الاقوامی انجینئرنگ، ثقافتی جدیدیت اور علاقائی مطالعات پر توجہ دی گئی۔ہونے والی چینی تربیت کے شرکاء میں سے لورالائی یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ تربیت نے انہیں چینی اعلیٰ تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عملی پہلوؤں کے بارے میں قیمتی بصیرت دی جو وہ اپنی جامعات میں متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے عملی منصوبہ بندی اور تجربات کے تبادلے پر زور دیا۔یہ چینی تربیت نہ صرف شرکاء کے علم میں اضافہ کا سبب بنی بلکہ تعلیم کے ڈیجیٹل اور صنعتی پہلوؤں کو ایک نئی سمت دینے کا موجب بھی بنی، اور امید ظاہر کی گئی کہ وطن واپسی پر یہ تجربات تعلیمی معیار اور تحقیقی فعالیت میں نمایاں اضافہ کریں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے