پچاس سالہ تعاون کی بنیاد پر پاکستان اور اقوام متحدہ برائے منشیات و جرائم نے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کا عزم دہرایا۔ اس پچاس سالہ تعاون میں فوجداری انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے اور منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، بدعنوانی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد شامل رہی ہے۔ویانا میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی کے دوران اقوام متحدہ برائے منشیات و جرائم کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان برانڈولینو نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لیے نیا معاہدہ پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد پہلے سے جاری کوششوں کو قانونی، تربیتی اور ادارہ جاتی سطح پر مزید مربوط کرنا بتایا گیا تاکہ مجرمانہ رجحانات کا موثر مقابلہ ممکن ہوسکے۔معززین نے اس موقع پر زور دیا کہ مستحکم ادارے اور قانون کی بالادستی امن، سلامتی اور طویل المدتی خوشحالی کے لیے لازمی ہیں۔ نمائندگان نے فوجداری انصاف کے تقویت پذیر ڈھانچوں، شفاف تفتیشی طریقہ کار اور بین الاقوامی تعاون کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملک میں امن و امان اور معاشی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ نیا معاہدہ پچاس سالہ تعاون کی ایک تازہ پیش رفت قرار پایا، جس میں تربیت، معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مجرمانہ نیٹ ورکس کا مؤثر سدِباب شامل ہوگا۔ شریک فریقوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی اور مستحکم انصاف کے نظام سے ہی طویل المدتی ترقی اور اجتماعی سلامتی ممکن ہے۔
