نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اسکولوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے تیار کردہ ’’پاکستان اسکول سیفٹی فریم ورک‘‘ وفاقی اور صوبائی محکمہ جات تعلیم کے حوالے کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں اس فریم ورک کا اطلاق یقینی بنانا ہے۔
این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فریم ورک کی باقاعدہ حوالگی کی گئی، جس کی سربراہی ممبر ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن این ڈی ایم اے محمد ادریس محسود نے کی۔ اجلاس میں فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ اس فریم ورک کا نفاذ صوبائی سطح پر مقامی تقاضوں کے مطابق کیا جائے گا، جب کہ اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جو این ڈی ایم اے اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی مشترکہ سربراہی میں کام کرے گا، اس گروپ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور محکمہ تعلیم کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکول سیفٹی سے متعلق تمام نئی سرگرمیوں کے لیے صرف پی ایس ایس ایف ہی مستند حوالہ رہے گا، اور انسانی بہبود کے تمام فریقین کو اس کے مطابق اپنی کارروائیاں ترتیب دینی ہوں گی، تاکہ وسائل کی دہرائی سے بچا جا سکے اور اہم شعبوں پر بہتر توجہ دی جا سکے۔ اس کے علاوہ، فریم ورک کے تحت تیار کردہ ای-چیک لسٹ کو ایک موثر اور جدید آڈٹ ٹول کے طور پر قبول کیا گیا ہے، جس سے اسکولوں میں آفات سے بچاؤ کی سہولیات کا آسانی سے جائزہ لیا جا سکے گا۔
اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، تمام صوبائی اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز، سندھ کی اسکول ایجوکیشن و لٹریسی ڈپارٹمنٹ، خیبر پختونخوا کی ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، پنجاب اور بلوچستان کے متعلقہ محکمے، اس کے علاوہ یونیسف، سیو دی چلڈرن، یو این ایف پی اے، پی پی اے ایف اور گلوبل الائنس فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ ریزیلینس اِن ایجوکیشن سیکٹر کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس اقدام کو اسکولوں میں تعلیمی تسلسل اور بچوں کی حفاظت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
